اسلام آباد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ سولر پینلز(solar panels) پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اور نہ ہی سولر توانائی کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ادارے کے مطابق سولر سسٹمز نے صارفین کو مہنگی بجلی سے بچانے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بجٹ 2026-27 کے حوالے سے ایف بی آر کی ٹیکنیکل بریفنگ کے دوران رکن ایف بی آر حامد عتیق سرور نے بتایا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے محصولات کی وصولی کا 15 ہزار 264 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ہدف کے حصول کے لیے نئے ٹیکسوں کے نفاذ کے بجائے ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور انفورسمنٹ اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی کیلئے 17 ارب روپے سے زائد بجٹ تجویز، تنخواہوں اور مراعات پر اربوں خرچ ہونگے
انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 40 لاکھ دکان دار موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف 6 لاکھ ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے چھوٹے دکان داروں کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیم کا اطلاق ایسے افراد پر نہیں ہوگا جن کے پاس ایک سے زائد دکانیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دکان داروں کو بلاوجہ ہراساں نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی معمول کی بنیاد پر بیکنگ ہوگی، تاہم اگر کسی کاروبار کے اخراجات اور آمدن میں غیر معمولی فرق سامنے آیا تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
حامد عتیق سرور کے مطابق حکومت نے انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 600 ارب روپے اضافی محصولات جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور زیادہ سے زیادہ کاروباروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
رکن ایف بی آر نے سولر پینلز پر نئے ٹیکس کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس شعبے پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں ڈالا۔
مزید پڑھیں:ترکیہ؛ 267 مسافروں سے بھرا طیارہ ایئرپورٹ پر ریڈار ٹاور سے ٹکرا گیا
ان کے مطابق سولر توانائی نے قومی گرڈ پر دباؤ کم کرنے اور صارفین کو بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بچانے میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔












ہفتہ 13 جون 2026 