چینی سائنسدانوں کی بڑی کامیابی، جدید سولر سیل کی کارکردگی 27.27 فیصد تک پہنچ گئی

Calender Icon اتوار 14 جون 2026

چینی سولر ٹیکنالوجی کمپنی لونگی (Longi) اور یانگژو یونیورسٹی کے محققین نے سولر سیلز کی تیاری میں ایک نئی اور مؤثر ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے، جس کے ذریعے لیزر سے پیدا ہونے والی نقصان دہ شاک ویوز کو کم کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ اس پیش رفت سے ہائی ایفیشنسی ہیٹروجنکشن (HJT) بیک کانٹیکٹ سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

محققین کے مطابق جدید سولر سیلز کی تیاری میں لیزر ٹیکنالوجی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس سے تیز رفتار، درست اور اعلیٰ معیار کی پروسیسنگ ممکن ہوتی ہے۔ تاہم زیادہ توانائی والے لیزر پلسز کے استعمال سے سلیکون میں شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں شاک ویوز جنم لیتی ہیں جو سولر سیلز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

سائنس دانوں نے وضاحت کی کہ لیزر سے پیدا ہونے والی یہ شاک ویوز سلیکون کے اندر انتہائی تیز دباؤ پیدا کرتی ہیں، جس سے باریک دراڑیں اور ساختی نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایسے نقائص الیکٹرانز کی نقل و حرکت کو متاثر کرتے ہیں اور سولر سیلز کی مجموعی کارکردگی اور عمر کو کم کر دیتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم نے اپنی تحقیق میں اس مسئلے کی بنیادی وجہ تلاش کرتے ہوئے معلوم کیا کہ سولر سیل کے پچھلے حصے پر موجود سلکان نائٹرائیڈ (SiNx) کی تہہ شاک ویوز کے اثرات کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ جب لیزر شعاع اس تہہ سے ٹکراتی ہے تو ایک غیر حرارتی عمل کے ذریعے مادہ اچانک خارج ہوتا ہے، جس سے طاقتور شاک ویوز پیدا ہوتی ہیں جو سلیکون کے اندر پھیل کر نقصان کا باعث بنتی ہیں۔

مزیدپڑھیں:2027ء کے سینیٹ الیکشنز کے بعد ہابرڈ نظام حکومت مزید مستحکم ہوسکتا ہے، تحریک انصاف کا خدشہ

تحقیق کے دوران دو مختلف اقسام کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا۔ ایک گروپ میں پچھلی سطح پر سلکان نائٹرائیڈ موجود تھی جبکہ دوسرے گروپ میں یہ تہہ شامل نہیں تھی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ سلکان نائٹرائیڈ والی سطح پر سولر سیلز کے اگلے حصے میں نمایاں نقصانات اور ساختی خرابیاں پیدا ہوئیں جبکہ دوسری قسم کے نمونے تقریباً مکمل طور پر محفوظ رہے۔
محققین نے اس مسئلے کے حل کے لیے سولر سیلز کی سطح پر تین مختلف ساختی ڈیزائن آزمایا۔ نتائج سے ثابت ہوا کہ چھوٹے اور گولائی والے اہرامی ڈیزائن شاک ویوز کے دباؤ کو مؤثر انداز میں منتشر کرتے ہیں، جس سے سیل کی حفاظتی تہہ محفوظ رہتی ہے اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیے گئے بہترین سولر سیل نے 27.27 فیصد پاور کنورژن ایفیشنسی حاصل کی، جو دنیا کے جدید ترین سولر سیلز کے معیار کے بہت قریب ہے۔ اس نتیجے کی تصدیق جرمنی کے معروف ادارے Institute for Solar Energy Research Hamelin نے بھی کی۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ لوژو لی کے مطابق انہوں نے سولر سیل کی اگلی سطح پر ایک منفرد ساخت تیار کی ہے جو شاک ویوز کے منفی اثرات کو کم کرتے ہوئے سیل کی کارکردگی اور پائیداری میں اضافہ کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت مستقبل میں انتہائی مؤثر اور زیادہ طاقتور سولر پینلز کی تیاری کی راہ ہموار کرے گی۔