اسلام آباد: سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی (Shahid khaqan)نے کہا ہے کہ معیشت کمزور ہو گی تو دفاع بھی کمزور ہوگا، قرضوں اور ٹیکسوں سے ملک نہیں چل سکتا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ معیشت کمزور ہونے سے دفاع بھی کمزور ہو جاتا ہے، جبکہ حکومت قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے عوام پر اضافی ٹیکس عائد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے بجٹ اسٹرکچر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ بہتر معاشی پالیسیوں سے استفادہ کیا جا سکے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ملک کا قرضہ 85 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا تھا اور رواں سال اس میں مزید 7200 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اضافی قرضوں اور ٹیکسوں کے ذریعے مالی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات درست کرنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے اور اس کیلئے سب سے پہلے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی یقینی بنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی عدم استحکام اور ایک دوسرے کو چور قرار دے کر جیلوں میں ڈالنے کی سیاست سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین میں معاشی معجزہ برپا ہوا اور وہاں ایک ارب افراد کو غربت سے نکالا گیا، تاہم چین بھی آج اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
مزید پڑھیں:وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ، وزراء کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد کمی
شاہد خاقان عباسی نے حکومت کے بجٹ کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں سے پائیدار ترقی حاصل نہیں کی جا سکتی۔












اتوار 14 جون 2026 