اسرائیل کا حزب اللّٰہ کے سینئر کمانڈر علی موسیٰ دقدوق کو شہید کرنے کا دعویٰ

Calender Icon اتوار 14 جون 2026

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی کے جنوب میں کیے گئے ایک حملے میں حزب اللّٰہ(Hizb ullah) کے سینئر کمانڈر علی موسیٰ دقدوق مارے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق علی موسیٰ دقدوق ماضی میں حزب اللّٰہ کے مبینہ گولان پورٹ فولیو کے سربراہ رہے ہیں۔ یہ یونٹ اسرائیلی سرحد کے قریب عسکری ڈھانچے قائم کرنے اور شمالی اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار تھا۔

صہیونی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان افراد کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے جنہیں اسرائیل اپنی سیکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔

علی موسیٰ دقدوق سابق حزب اللّٰہ سربراہ شہید حسن نصراللّٰہ کے سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ رہے، وہ حزب اللّٰہ کی خصوصی فورس رضوان فورس کے کمانڈر رہے اور حزب اللّٰہ کے نصر یونٹ کے آپریشنز ونگ میں کمانڈ کی ذمہ داریاں انجام دیں اور تنظیم کے انفنٹری شعبے کی قیادت کی۔

امریکی میڈیا کا شام پر اسرائیلی بمباری میں سینئر حزب اللّٰہ کمانڈر کی شہادت کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے دقدوق لبنان کی سرحد پر اسرائیلی فوج کے خلاف حزب اللّٰہ کی متعدد کارروائیوں اور آپریشنل منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

اسرائیلی اور امریکی ذرائع کے مطابق دقدوق کو 2007 میں امریکی افواج نے عراق میں گرفتار کیا تھا۔ ان پر پانچ امریکی فوجیوں کے اغوا اور قتل کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

بعد ازاں امریکا نے انہیں عراق کے حوالے کر دیا تھا، جہاں عراقی حکومت نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کروائی تھی۔ تاہم 2012 میں عراقی عدالت نے انہیں بری کر دیا اور وہ رہا ہو گئے، جس پر واشنگٹن نے شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

علی موسیٰ دقدوق کے بارے میں نومبر 2024 میں بھی شام میں ایک اسرائیلی حملے میں مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس حملے میں بچ گئے تھے۔

مزید پڑھیں:چکوال فائرنگ واقعہ: سی سی ڈی اہلکار گرفتار، سی سی ٹی وی فوٹیج آگئی

رپورٹس کے مطابق ان کے بیٹے حسان علی دقدوق دسمبر 2023 میں جنوبی شام میں ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں شہید ہوئے تھے۔دوسری جانب حزب اللّٰہ نے علی موسیٰ دقدوق کی شہادت کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔