ایران پر پابندیوں کا تعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق خدشات ہیں۔یورپی کمیشن صدر (European commission)نے ایران پر عائد پابندیوں سے متعلق صورت حال واضح کردی
یورپی کمیشن کی صدر نے واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود ایران میں انسانی حقوق اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو میں صدر یورپی کمیشن نے مزید کہا کہ اگر ایران کے رویّے میں قابلِ اعتماد، حقیقی، واضح اور قابلِ تصدیق تبدیلی آتی ہے تو پھر پابندیاں ختم کی جا سکتی ہیں لیکن اس کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہوں گے۔
یورپی کمیشن کی صدر اورزولا فون دیر لاین کا مزید کہنا تھا کہ پابندیوں کے حوالے سے یورپی یونین کا اصول بالکل واضح ہے کہ زمینی حقائق میں عملی تبدیلی کے بغیر پابندیاں ہٹانے پر غور نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین ان معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھتی ہے اور کسی بھی ممکنہ نرمی کا انحصار ایران کی جانب سے عملی پیش رفت پر ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے بعد ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے مستقبل پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کے باوجود تہران کو یورپی پابندیوں سے فوری ریلیف ملنے کا امکان کم ہے۔
مزید پڑھیں:فیصل وواڈا کا ہارون اختر اور سیکرٹری انڈسٹری کے استعفے کا مطالبہ
واضح رہے کہ یورپی یونین نے گزشتہ برسوں کے دوران ایران پر متعدد پابندیاں عائد کی تھیں جن میں بعض ایرانی شخصیات، اداروں اور تنظیموں کے اثاثے منجمد کرنا، سفری پابندیاں اور حساس ٹیکنالوجی کی منتقلی پر قدغنیں شامل ہیں۔












پیر 15 جون 2026 