اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے معاملے پر پاکستان ایک ایسے ایشو کو ڈیل کر رہا ہے جو بہت پیچیدہ ہے، پاکستان کا اس میں کردار ثالث(Midator Roll) کا ہے۔
ذرائع کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ ایران امریکا معاہدے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ہی انٹرسٹ ہے اور وہ ہے امن اور استحکام۔ دنیا کو آہستہ آہستہ اس کا ادراک ہورہا ہے کہ پاکستان نے کیا کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ہیڈلائن ڈپلومیسی میں دلچسپی نہیں رکھتے، پاکستان نے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ ابھی بھی اس معاملے میں بگاڑ پیدا کرنے والے موجود ہیں۔ اسرائیل کا انٹرنیشنل میڈیا پر اثر و رسوخ ہے۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ قطر، سعودی عرب، ترکیے، مصر اور یو اے ای کو بھی امن معاہدے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ ان سب ممالک نے پاکستان کی امن کی خواہش پر لبیک کہا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان کے ایران، سعودی عرب اور امریکا سمیت سب ممالک کے ساتھ الگ الگ تعلقات ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ہمارے اندرونی چیلنجز میں دہشتگردی بھی ہے۔ اب جنگ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوچکی ہے۔سیکیورٹی حکام نے کہا کہ دہشتگردی کی 2170 کارروائیاں ہوئیں جن میں سے 64 فیصد خیبر پختونخواہ اور 34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ 15 جون 2026 تک 32 ہزار 92 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ اس دوران 1861 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ پاک فوج کے جوان، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہریوں سمیت 640 افراد شہید ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی حکام کے مطابق 862 دہشتگرد غضب للحق آپریشن افغانستان میں مارے گئے جبکہ باقی 999 پاکستان میں ہلاک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی حکام نے کہا کہ پاکستان کا پہلا نشان حیدر کشمیر سے ہے، ہمارا ایشو دہشتگرد رجیم سے ہے نہ کہ وہاں کی عوام سے۔ فوج میں 40 فیصد کے قریب جوان کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی نے بھی پیسہ لگایا۔ کیا وہ وہاں کے مسلمانوں کو خرید سکتے ہیں؟ کیا وہاں سے پاکستان کے لیے لوگوں کے جذبات سامنے نہیں آئے؟
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں نقل و حرکت اور اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کا ملٹری کے ذریعے بھی کچھ نہ کرسکا، اس لیے آزاد کشمیر میں آگ لگائی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی حکام نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک سے آغاز کیا گیا، ہماری ڈیفالٹ آپشن ہمیشہ بات چیت ہوتی ہے، اصل کہانی کیا ہے یہ سامنے آنے میں وقت لگا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی حکام نے کہا کہ ہمیں پتا تھا جے اے اے سی کا ایجنڈا کیا ہے، یہ کدھر سے آرہے ہیں، بی وائے سی کو جب دہشتگرد تنظیم کہا گیا تب بھی بہت شور مچا تھا۔ پھر بی وائے سی بھی کھل کر سامنے آگئی۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق آزاد کشمیر حکومت نے لوگوں کو کہا ہے اپنی دکانیں کھولیں، ناکے ان کی جانب سے لگائے گئے ہیں، جے اے اے سی نے عوام کو کہا ہے جو دکانیں کھولے گا ہم آگ لگا دیں گے۔
ذرائع کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر حکومت پولیٹیکل پراسیس فالو کر رہی تھی، آزاد کشمیر میں بیٹھ کر ریاست مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ ریاست پیار محبت سے ڈیل کر رہی ہے۔ ریاست ہمشہ پہلے ماں بن کر ڈیل کرتی ہے بعد میں باپ بنتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکام نے کہا کہ ہر لمحے جے اے اے سی مزید کھل کر سامنے آرہی ہے۔ ان کو آئینی اور قانونی طریقے سے ڈیل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:کوئی ٹول ٹیکس نہیں،آبنائے ہرمز جمعے سے مکمل کھل جائے گی، صدر ٹرمپ
حکام کے مطابق دفاعی بجٹ 300 ارب مختص ہے جو 17 فیصد اضافہ بنتا ہے، اس میں زیادہ تر بجٹ لازمی اخراجات کو جاتا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے تھوڑا بجٹ بچتا ہے۔ اس کے برعکس دیکھیں تو بھارت کا بجٹ کتنا ہے؟












منگل 16 جون 2026 