قومی اسمبلی میں رانا تنویر حسین اور اپوزیشن آمنے سامنے، ایوان میں ہنگامہ آرائی

Calender Icon بدھ 17 جون 2026

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین(Rana Tanveer Hussain) اور اپوزیشن ارکان کے درمیان سخت جملوں کے تبادلے کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہوگیا، جس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی دیکھنے میں آئی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ آج پاکستان کو عالمی سطح پر جو عزت اور وقار حاصل ہوا ہے، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بین الاقوامی کردار مضبوط ہوا ہے اور دنیا اہم معاملات میں پاکستان پر اعتماد کر رہی ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت اور جنگ بندی کی کوششوں میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول دونوں شخصیات نے مسلسل محنت اور سفارتی رابطوں کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کیے۔

انہوں نے گزشتہ برس بھارت کے ساتھ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مسلح افواج نے بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو مؤثر جواب دیا۔

اپنے خطاب کے دوران رانا تنویر حسین نے تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے بار بار لقمہ دینے پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو اپنے حلقے میں مقابلے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے ریمارکس پر اپوزیشن بنچوں سے شدید احتجاج کیا گیا جس کے بعد ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا۔

اجلاس کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے متعدد بار مداخلت کرتے ہوئے ارکان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی۔ ایک موقع پر اسپیکر نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے وقار کا خیال رکھا جائے۔

مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب کا پرچم میدان میں بچھایا نہیں جاتا

رانا تنویر حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ سیاسی مفاہمت اور مکالمے کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی دعوت دی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں انہیں اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو اسمبلی کا حلف نہ لینے کے مشورے دیے گئے تھے، تاہم انہوں نے جمہوری عمل کا حصہ بننے کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق انہوں نے مختلف مواقع پر سیاسی قیادت کو تصادم سے گریز اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے رانا تنویر حسین کے بیانات پر سخت اعتراض کیا اور ایوان میں جوابی نعرے بازی کی۔ اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، جبکہ اسپیکر مسلسل صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔