اسلام آباد، دفترِ خارجہ(Foreign Office) نے واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں مستقل امن، استحکام اور مسائل کے سفارتی حل کی کوششوں کی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔
اسی سلسلے میں آج سوئٹزرلینڈ میں ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کے لیے تکنیکی مذاکرات کا اہم دور شروع ہو رہا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ سے جاری اعلامیہ کے مطابق برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے اعلیٰ نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
عالمی مذاکرات کا میزبان پاکستان ہے اور وہ دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ مفاہمت پر عملدرآمد کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا۔
پاکستان کی طویل سفارتی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس عالمی بحران میں پاکستان کی سہولت کاری اس کے اصولی، متوازن اور تعمیری مؤقف کی واضح مظہر ہے۔
پاکستان اس سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ابتدائی مذاکراتی ادوار کی میزبانی بھی کر چکا ہے، پاکستان کے مسلسل سفارتی رابطوں کی بدولت ہی بالآخر فریقین ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
بتایا گیا ہے کہ پاکستانی وفد سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے جہاں سوئس وزارتِ خارجہ نے ان کا شاندار استقبال کیا، اس تاریخی موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود سے الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
ان ملاقاتوں میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا جائے گا، سوئس وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہیں، جو زیورخ پہنچنے کے بعد اب مذاکرات کے لیے برگن اسٹاک پہنچ چکا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات کے لیے ایران کا اعلیٰ سطح کا وفد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے، دوسری جانب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس بھی ایران سے مذاکرات کے لیے پہنچ چکے ہیں ۔
مزید پڑھیں:ہمیں پاکستان سے محبت ہے، امریکی نائب صدر
ان کا یہاں ایک سے دو دن قیام کا امکان ہے، میڈیا سے گفتگو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ان کے اس دورے کا بنیادی مقصد جوہری مسئلے پر پیشرفت اور لبنان میں جنگ بندی کے معاملے کو آگے بڑھانا ہے۔












اتوار 21 جون 2026 