تیل پر عوامی ریلیف کی منتقلی میں پیٹرولیم لیوی بڑی رکاوٹ بن گئی

Calender Icon پیر 22 جون 2026

عالمی منڈی میں خام تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں پٹرولیم لیوی(Petroleum Live) بڑی رکاوٹ بن گئی۔

اعداد وشمار کے مطابق ایران امریکا جنگ شروع ہونے سے پہلے فروری 2026 میں عالمی منڈی میں خام تیل 70 سے 76 ڈالر فی بیرل میں ٹریڈ ہو رہا تھا اور پاکستان میں پیٹرول 285 روپے 17 پیسے لیٹر تھا۔ جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں قیمت پھر فروری کی سطح پر آچکی جبکہ پاکستان میں پیٹرول 299 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہے۔ عوام کو حقیقی ریلیف منتقل نہیں کیا جا رہا ہے۔

رواں سال حکومت پیٹرولیم لیوی کے 1468 ارب روپے ہدف سے 30 ارب روپے زیادہ جمع ہونے کا اعلان خود کرچکی ہے لیکن پھر بھی لیوی وصولی جاری ہے اور نئے بجٹ میں اس کا ہدف بڑھا کر پیٹرولیم قیمتوں میں مد میں حقیقی ریلیف کو عوام سے مزید دور بھی کردیا گیا ہے۔

جون میں خلیج کشیدگی میں کمی اور حالات ساز گار ہونے پر قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوئی، تین ہفتے کے دوران مجموعی طور پر پیٹرول 82 اور ڈیزل 71 روپے سستا کیا گیا۔ 20 جون کو پیٹرول پر لیوی میں بھی 40 روپے 49 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی۔

ایران امریکا جنگ سے پہلے ملک میں پیٹرول کی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر تھی جو اس وقت 299 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ عالمی منڈی میں جنگ سے پہلے خام تیل 70 سے 76 ڈالر فی بیرل تھا اوراب پھر قیمت اسی سطح پر آچکی ہے لیکن عوام کو زیادہ ریلیف نہیں ملا اور نہ ہی آئندہ بجٹ میں ملنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا نے ایرانی پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کیلئے لائسنس جاری کر دیا

آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 160 روپے فی لیٹر رکھنی ہے جبکہ کلائمٹ سپورٹ لیوی میں 50 فیصد اضافہ بھی تیل کی گرتی قیمتوں کا ریلیف عوام کو منتقل کرنے میں بڑی رکاوٹ رہے گا۔