BLA عالمی دہشتگردی نیٹ ورک کا حصہ، بلیک لسٹ اور موثر کارروائی کی جائے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری

Calender Icon بدھ 1 جولائی 2026

اسلام آباد، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری (Sanetor Samina Mumtaz)نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے، کیونکہ یہ تنظیم نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن، عالمی اقتصادی مفادات اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

ایک تحریری مضمون میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ بی ایل اے بلوچستان کے عوام کی نمائندہ تنظیم نہیں بلکہ صوبے کی غربت، پسماندگی اور بے روزگاری کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والا ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم نوجوانوں، خصوصاً 15 سے 25 سال کی عمر کے افراد، کو گمراہ کن پروپیگنڈے، سماجی تنہائی اور شدت پسند نظریات کے ذریعے خودکش حملوں کے لیے تیار کرتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2024 کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے **938 حملے** ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں **53 فیصد زیادہ** تھے، جبکہ ان حملوں میں **ایک ہزار سے زائد افراد** جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے مطابق بی ایل اے نے ان حملوں کی بڑی تعداد کی ذمہ داری قبول کی۔

سینیٹر زہری نے مارچ 2025 میں **جعفر ایکسپریس** پر حملے کو دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں کم از کم **31 افراد جاں بحق** ہوئے جبکہ **300 سے زائد مسافروں** کو یرغمال بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کے خودکش ونگ **مجید بریگیڈ** نے ایک سال کے دوران متعدد خودکش حملے کیے، جو اس تنظیم کی منظم اور خطرناک صلاحیت کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی ایل اے کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے روابط کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر شدت پسند گروہوں سے بھی ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام کو فروغ مل رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، اہم شاہراہوں، بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور بلوچستان کے معدنی وسائل کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت اور علاقائی ترقی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے نشاندہی کی کہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا پہلے ہی بی ایل اے اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی پاکستانی اور چینی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔

مزید پڑھیں:اٹک طوفانی بارشیں، دیوار اور کچی چھت گرنے سے 3 افراد جاں بحق، 5 بچے زخمی

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بی ایل اے کو فوری طور پر اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے تاکہ اس کی مالی معاونت، بین الاقوامی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ بہتر طرزِ حکمرانی، سیاسی شمولیت، معاشی ترقی اور عوامی محرومیوں کے ازالے پر بھی توجہ دینا ناگزیر ہے۔