جیل اصلاحات کانفرنس: چیف جسٹس، مریم نواز اور سہیل آفریدی کا خطاب، اہم تجاویز دیں

Calender Icon جمعرات 2 جولائی 2026

اسلام آباد:(طارق محمودسمیر، نجیب ملک)جیل اصلاحات سے متعلق قومی کانفرنس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عدالتی قیادت نے قیدیوں کے حقوق، جیلوں کی حالتِ زار اور اصلاحاتی اقدامات(Jail Reforms) پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا، جبکہ نظامِ انصاف اور جیلوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی پر زور دیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق بنیادی حقوق اور سہولیات ملنی چاہئیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے لیے بھی اڈیالہ جیل میں مناسب طبی سہولیات، ذاتی معالجین سے علاج، ملاقاتیوں کے لیے انتظارگاہ اور اہلِ خانہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل اصلاحات کا آغاز اڈیالہ جیل سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں پرامن جلسوں کی اجازت ہونی چاہیے اور کم عمر بچوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات کے اندراج جیسے اقدامات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ زیرِ التوا مقدمات کے فیصلوں میں پیش رفت ہوئی ہے اور قیدیوں کے حقوق کا تحفظ نظامِ انصاف کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں میں صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے، جبکہ جیلوں کی بہتری آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیل اصلاحات کے لیے صوبائی سطح پر کمیٹیاں بھی قائم کی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں:ملک بھر میں طوفانی بارشوں سے تباہی، 14 افراد جاں بحق گئی، درجنوں زخمی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے جیلوں میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ قیدیوں کو بہتر ماحول اور بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔