پولیس کو خواتین کے 164 کے بیان(Statement of Section 164) کی اتنی جلدی تھی کہ پرسوں رات ایس ایچ او رات کو 2 بجے جج کے گھر میں اہلکاروں کیساتھ گھس گیا اور جج صاحب سے ہتک آمیز اور دھمکی آمیز رویے میں کہنے لگا کہ فوری ڈی آئی جی سے فون پر بات کریں،میڈیاکا دعویٰ
lاہور، دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس میں ایک نیا اور حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں متاثرہ خواتین کے بیانات ریکارڈ کروانے کے معاملے پر ایس ایچ او اور پولیس اہلکاروں کے خلاف ہی مقدمہ درج کر لیا گیا۔ معاملے نے کیس کی تفتیش اور پولیس کے طرز عمل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کو متاثرہ غیر ملکی خواتین کے دفعہ 164 کے تحت بیانات جلد لینے کی اس قدر جلدی تھی کہ دو روز قبل رات تقریباً 2 بجے متعلقہ ایس ایچ او فریاد اشرف اہلکاروں کے ہمراہ جج کے گھر پہنچ گیااور جج کے ساتھ ہتک آمیز اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے فوری طور پر ڈی آئی جی سے فون پر بات کریں۔
ایس ایچ او فریاد اشرف اور دو کانسٹیبلز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔یاد رہے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے فرائض میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او ڈیفنس سی فرہاد اشرف کو معطل کرتے ہوئے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
مزید پڑھیں:تہران، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے فرائض میں غفلت برتنے پر ایس ایچ او ڈیفنس سی فرہاد اشرف کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔احکامات کے مطابق فرہاد اشرف کو ایس ایچ او کے عہدے سے ہٹا کر فوری طور پر پولیس لائنز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔












جمعہ 3 جولائی 2026 