بھارت میں مودی سرکار کی پالیسیاں ملک کو سفارتی، معاشی اور سماجی محاذ پر شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے، جبکہ اندرونِ ملک عوام غربت، بیروزگاری اور صحت جیسے بنیادی مسائل میں بُری طرح جکڑے جا چکے ہیں-مودی حکومت کے سیاہ باب نے بھارت کو سفارتی ناکامی، معاشی زوال اور اندرونی خلفشار کے گہرے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ سفارتی لاپرواہی، ناقص خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر بڑھتی تنہائی، بھارت کو ذلت آمیز مقام تک لے آئی ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر بھارتی پاسپورٹ کی درجہ بندی میں نمایاں تنزلی ہوئی ہے۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں بھارت اب 85ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ یہ گراوٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی مسلسل ناکامی کا شکار ہے۔مودی حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کو پس پشت ڈال کر وسائل کو جنگی جنون اور ہتھیاروں کی خریداری میں جھونک دیا ہے۔ ان پالیسیوں کے باعث تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ،، بھارتی میڈیا کے مطابق، سرکاری اسپتالوں میں 70 فیصد وینٹی لیٹر خراب ہیں۔ بنیادی طبی سہولیات کا فقدان اور جعلی ادویات کا پھیلاؤ، مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ملک میں بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد ہو چکی ہے، جس سے نوجوان نسل میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ بھارت میں 6 سے 14 سال کے 11 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں ،،، مودی حکومت کی ناکام پالیسیاں، ذاتی مفادات اور اقلیت دشمنی پر مبنی سیاسی ایجنڈا، بھارتی عوام کو بربادی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہندو توا نظریے کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا کر، مودی سرکار نے بھارت کو عالمی برادری میں تنہا کر دیا ہے۔بھارتی عوام آج مودی سرکار کی ناقص حکمرانی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، جبکہ دنیا بھارت کو ایک غیر مستحکم، انتہا پسند اور سفارتی طور پر تنہا ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
جمعہ 17 اکتوبر 2025












