سانحۂ گل پلازا: تیسرا چالان جمع، 6 ملزمان نامزد، 72 اموات کی ذمے داری غفلت پر عائد

Calender Icon ہفتہ 4 جولائی 2026

سانحۂ گل پلازا کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے پراسیکیوشن کے اعتراضات دور کیے بغیر تیسری بار چالان جمع کروا دیا جبکہ چالان کے ساتھ جوڈیشل کمیشن (Judicial Commission)کی رپورٹ بھی منسلک نہیں کی گئی۔

ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے چالان عدالت کو بھجوا دیا۔

چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عمار اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، سیکریٹری محمد امین، دکاندار نعمت اللّٰہ اور اس کے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، کم عمر ملزم حذیفہ کے خلاف جوینائل قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ مقدمے میں قتل بالسبب، غفلت سے نقصان، آتشزدگی سے نقصان اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

چالان میں پولیس، فائر بریگیڈ، متاثرین اور ریسکیو 1122 کے اہلکاروں سمیت 60 گواہان کے نام شامل ہیں جبکہ مقدمے میں 4 عینی شاہدین کے دفعہ 164 کے تحت بیانات بھی قلم بند کروائے گئے ہیں۔

چالان کے متن کے مطابق گل پلازا میں آگ کا آغاز دکان نمبر 192 سے ہوا، دکاندار نعمت اللّٰہ اکثر اپنی دکان اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کے حوالے کر کے چلا جاتا تھا اور آتشزدگی کے روز بھی سی ڈی آر رپورٹ کے مطابق وہ موقع پر موجود نہیں تھا۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ 11 سالہ حذیفہ ماچس جلا کر کھیل رہا تھا جس سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ مارکیٹ یونین کے عہدیداروں نے ایمرجنسی ہیلپ لائن پر بر وقت اطلاع دے کر مدد طلب نہیں کی جبکہ ان کا کال ڈیٹا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا جس میں ایمرجنسی نمبر پر بر وقت کال کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔

چالان کے مطابق فائر بریگیڈ کو آگ لگنے کی اطلاع عبدالصمد نامی شخص نے رات 10 بج کر 26 منٹ پر دی جبکہ عبدالصمد کے مطابق اس نے یہ اطلاع خود دی تھی اور مارکیٹ یونین کی جانب سے اسے کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔

چالان میں کہا گیا ہے کہ بر وقت اطلاع نہ ملنے کے باعث 72 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے اور آتشزدگی کے نتیجے میں 1153 دکانیں سامان سمیت جل گئیں۔

چالان کے مطابق ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائی کے دوران شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

تنویر پاستا نے کے الیکٹرک کو کال کر کے بجلی بند کروائی تاہم معقول روشنی کا بندوبست نہ ہونے کے باعث لوگ بر وقت باہر نہ نکل سکے اور بجلی کی بندش کے دوران متاثرین کی رہنمائی کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں تھا۔

مزید پڑھیں:اسلام آباد پولیس میںبھرتیاں جاری، میرٹ ہی انتخاب کا واحد معیار ہو گا، محسن نقوی

سول ڈیفنس کے افسر کے مطابق انتظامیہ کے پاس فائر سیفٹی کی ٹریننگ موجود نہیں تھی، مارکیٹ میں فائر ہائیڈرنٹ بھی نصب نہیں تھا اور سول ڈیفنس حکام کی ہدایت کے باوجود فائر سیفٹی سیشن بھی منعقد نہیں کیا گیا۔