ٹرمپ کا پیوٹن ، زیلنسکی سے ٹیلیفونک رابطہ، جنگ کے خاتمے میں مدد کی پیشکش

Calender Icon اتوار 5 جولائی 2026

واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے الگ الگ ٹیلی فونک (Telephonic Conversation) رابطے کیے، جن میں یوکرین جنگ کے خاتمے اور ممکنہ سفارتی حل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہفتے کے روز امریکا کے یومِ آزادی کے موقع پر تقریباً 90 منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق صدر ٹرمپ نے آئندہ ہفتے ترکی میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے تناظر میں یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ لڑائی کے جلد خاتمے اور بحران کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یوری اوشاکوف نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو تعمیری اور کاروباری ماحول میں ہوئی، روس نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا کہ تنازع کا پائیدار حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ہی ممکن ہے اور اس میں روس کے بنیادی مؤقف کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

کریملن کے مطابق روس نے الزام عائد کیا کہ یوکرین اور اس کے بعض یورپی اتحادی جنگ کو طول دینے اور اس میں مزید شدت لانے کے خواہاں ہیں۔

روسی حکام نے اس تناظر میں روس کے اندر تیل کی تنصیبات پر یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کا بھی حوالہ دیا، جن کے باعث بعض علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی۔

یوری اوشاکوف کے مطابق صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو محاذِ جنگ کی تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ روسی افواج مختلف محاذوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے نئے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی افواج نے مشرقی یوکرین کے ڈونیٹسک خطے کے اہم شہر کوستیانتینیوکا پر قبضہ کر لیا ہے، تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یوکرین کے جنرل اسٹاف نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر بدستور یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کیا، صدر زیلنسکی نے گفتگو کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی کوششیں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کریں گی۔

مزید پڑھیں:ویمنزT20 ورلڈ کپ فائنل: انگلینڈ کا آسٹریلیا کو جیت کیلئے 151 رنز کا ہدفT20

روس کا مؤقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ڈونباس خطے پر ماسکو کے مکمل کنٹرول کو تسلیم کیا جانا چاہیے، جبکہ یوکرین اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی علاقائی سالمیت پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کر چکا ہے۔