وفاقی وزیر برائے بیرونِ ملک پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی اور پاکستان مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر، نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق سب سے اہم اور متنازع اقدام بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کا اعلان ہے،
جس کی معاہدے میں کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر اپنے بیان میں چوہدری سالک حسین (Chaudhry Salik Hussain)نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں ایسی کوئی شق شامل نہیں جو کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار دیتی ہو۔
معاہدے کے آرٹیکل 12 کی شق 4 کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت تک مکمل طور پر مؤثر، قانونی اور قابلِ عمل رہے گا جب تک پاکستان اور بھارت باہمی اتفاقِ رائے سے اس میں ترمیم یا اسے ختم نہ کریں۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح اور اصولی ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کا اقدام بین الاقوامی قانون، معاہداتی ذمہ داریوں اور ریاستوں کے درمیان طے شدہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مزیدپڑھیں:بیوی پر تشدد کا مقدمہ؛ یوٹیوبر علی حیدر آبادی کو ابتدائی ریلیف مل گیا
انہوں نے کہا کہ پانی پاکستان کے کروڑوں عوام کی زندگی، زراعت، معیشت اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا مسئلہ ہے، لہٰذا اس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے آبی حقوق، قومی سلامتی اور بقا کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور معاہدے کے ضامن فریقین پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے اور جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں












منگل 7 جولائی 2026 