کراچی: چوری کی گیس سے بجلی بنانے والا منظم گروہ پکڑا گیا

Calender Icon بدھ 8 جولائی 2026

کراچی ،چوری شدہ گیس (Stolen Gas)سے بڑے جنریٹرز چلا کر 300 گھروں اور 100 دکانوں کو بجلی بیچی جارہی تھی۔ چھتوں پر رکھی بڑی تھیلیوں میں بھری گیس کسی بم کی طرح پھٹ کر تباہی پھیلا سکتی تھی۔

ترجمان کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے کراچی میں گلشن ویو اپارٹمنٹ، ابوالحسن اصفہانی روڈ، گلزارِ ہجری، اسکیم 33 میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گیس چوری کے منظم نیٹ ورک کو پکڑا ہے۔

کاؤنٹر گیس تھیفٹ آپریشنز ٹیم نے کسٹمر ریلیشنز ڈپارٹمنٹ ڈومیسٹک تھیفٹ ونگ، ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ اور ایس ایس جی سی پولیس کے ہمراہ کارروائی کی۔

ترجمان نے بتایا کہ ملزمان چوری شدہ گیس سے چلنے والے دو گیس جنریٹر استعمال کر رہے تھے۔ موقع سے دو 33 کے وی اے اور ایک 41.3 کے وی اے گیس جنریٹر برآمد ہوئے، جن کے ذریعے اپارٹمنٹ کمپلیکس کے تقریباً 300 فلیٹس اور 100 دکانوں کو غیرقانونی طور پر بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔

ملزمان اس غیر قانونی بجلی کی فراہمی کے عوض صارفین سے تقریباً 20 ہزار روپے ایڈوانس جبکہ 2 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہے تھے۔

ملزمان رحمت اللّٰہ، حیات مسعود اور سلیم مسعود کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، کارروائی کے دوران گیس چوری کے لیے استعمال ہونے والی تمام غیر قانونی پائپ لائنیں موقع پر ہی ہٹا دی گئیں، جبکہ غیرقانونی طور پر بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جنریٹرز کو فراہم کی جانے والی تمام غیر مجاز گیس سپلائی بھی منقطع کر دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ سے اچھے تعلقات کی کوششوں پر کوئی ملال نہیں، اطالوی وزیراعظم

ایس ایس جی سی نے اپنے صارفین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ گیس چوری کے ایسے واقعات کی فوری اطلاع دیں۔