بی آئی ایس پی ڈیجیٹل والٹس، صرف نقد رقم نکلوانے پر ٹرانزیکشن چارجز ہوں گے، اسٹیٹ بینک

Calender Icon جمعہ 10 جولائی 2026

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان سلیم اللہ نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) میں ڈیجیٹل والیٹس کی انٹرآپریبلٹی کا مالی بوجھ بی آئی ایس پی سے مستفید افراد برداشت کریں گے۔

وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کے اجلاس کو بریفنگ دے رہے تھے، جس کی صدارت میر غلام علی تالپور نے کی۔

اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیجیٹل والٹس کی انٹرآپریبلٹی، شریک بینکوں کی جانب سے ضوابط پر عمل درآمد، مستحقین کو معاوضے کی ادائیگی اور انتظامی اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ دو نجی مائیکرو فنانس بینک 16 جولائی اور 20 جولائی تک بی آئی ایس پی کے ڈیجیٹل فنڈز کی انٹرآپریبلٹی فعال کر دیں گے، جبکہ تمام 6 شریک بینک 31 جولائی تک اس نظام سے مکمل طور پر منسلک ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صرف نقد رقم نکلوانے پر ٹرانزیکشن چارجز لاگو ہوں گے، جبکہ آن لائن ٹرانسفر اور راست کے ذریعے رقوم کی منتقلی مفت رہے گی۔

مزیدپڑھیں:قومی کرکٹ ٹیم نے دورہ ویسٹ انڈیز کیلئے تیاریوں کا آغاز کر دیا

کمیٹی کو بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی مستحقین کے اکاؤنٹس کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن فعالیت کو 31 دسمبر تک لازمی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

سلیم اللہ نے بتایا کہ فی ٹرانزیکشن چارج 280 روپے مقرر کیا جائے گا، جبکہ چارجز کا شیڈول اسٹیٹ بینک ہر چھ ماہ بعد جاری کرے گا۔

قائمہ کمیٹی نے بی آئی ایس پی کے ڈیجیٹل والٹس سے متعلق عوامی آگاہی کی کمی اور شریک بینکوں سے معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے بی آئی ایس پی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مؤثر عمل درآمد کا نظام قائم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بینک مستحقین کو مناسب سہولیات فراہم کریں۔

بی آئی ایس پی کے سیکریٹری عامر علی احمد نے کمیٹی کو بتایا کہ بینکوں کی کارکردگی سے متعلق ضلع وار رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کی جائے گی۔

اجلاس میں رواں سال مارچ میں رحیم یار خان میں بی آئی ایس پی کی رقوم کی تقسیم کے ایک مرکز پر چھت گرنے کے واقعے کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں متعدد مستحقین جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس غفلت پر بی آئی ایس پی نے متعلقہ نجی مائیکرو فنانس بینک پر جرمانہ عائد کیا۔ ہر جاں بحق فرد کے اہل خانہ کو 20 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے علاج کے لیے 5 لاکھ روپے فی کس ادا کیے گئے، اور یہ رقم متعلقہ بینک کے حصے سے وصول کی گئی۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ہما اختر چغتائی، مخدوم طاہر رشید، الیاس چوہدری، نعیمہ کنول اور ارشد عبداللہ ووہرا کے علاوہ وزارتِ تخفیفِ غربت اور اس کے ماتحت اداروں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔