گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا وزیراعلیٰ کی عدم شرکت پر تنقید، ڈی آئی خان حملے پر سنگین سوال اٹھادیئے

Calender Icon جمعہ 17 اکتوبر 2025

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے آج وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ اہم اجلاس میں صوبائی وزیراعلیٰ کی عدم شرکت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے کہا کہ اس اجلاس میں صوبے کے لیے انتہائی اہم فیصلے کیے گئے، مگر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی عدم موجودگی نے صوبائی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی وزیراعلیٰ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور قومی سطح کے اجلاسوں میں شرکت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

گورنر کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس لائنز پر حالیہ دہشت گرد حملے پر بھی سنگین سوالاٹ اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کی تحقیقات ہونی چاہییں، کیونکہ واقعہ انتہائی مشکوک ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے پوچھا کہ علی امین گنڈاپور کا قافلہ جیسے ہی ڈی آئی خان پہنچا، اسی وقت پولیس لائنز پر حملہ ہو گیا۔ کیا یہ دہشت گرد وزیراعلیٰ کے جلوس کے ذریعے شہر میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ان دہشت گردوں نے علی امین گنڈاپور کے قافلے پر حملہ کیوں نہیں کیا، بلکہ صرف پولیس لائنز کو نشانہ بنایا؟

گورنر نے صوبائی وزیر قانون محسن نقوی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کے دوران نادرا کا پورا دفتر جلا دیا گیا، جس میں افغانی شہریوں کی حساس معلومات بھی موجود تھیں۔ کنڈی نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ حملہ افغانیوں کا ریکارڈ ختم کرنے کے لیے کیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تہہ تک جانچ ضروری ہے تاکہ دہشت گردی کی خفیہ سازشیں بے نقاب ہو سکیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس شہدا کی عیال و اقرباء سے ملاقات کے دوران ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس امن و امان کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف سیاسی قیادت، فوج اور عوام کی مشترکہ جدوجہد پر زور دیا۔

یہ بیانات صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دیے گئے، جہاں گورنر نے صوبے کی مجموعی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، گورنر کی یہ تنقیدیں صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی کو مزید اجاگر کر رہی ہیں۔