امریکا میں پہلی بار الیکٹرک ایئر ٹیکسی کے آزمائشی آپریشن کا آغاز

Calender Icon ہفتہ 11 جولائی 2026

امریکا میں الیکٹرک ایئر ٹیکسی(Air Taxi) کے مستقبل کی جانب اہم پیشرفت کرتے ہوئے پہلے آزمائشی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے پائلٹ پروگرام کے تحت ابتدائی پروازوں میں مریضوں کے لیے تیار کیے گئے انسانی اعضا ایک ریاست سے دوسری ریاست منتقل کیے گئے۔

امریکا میں الیکٹرک ورٹیکل ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (eVTOL) طیاروں کے انٹیگریشن پائلٹ پروگرام کے تحت پہلی عملی آزمائشی پروازیں کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس کثیر سالہ پروگرام کا مقصد الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کو مستقبل کے فضائی ٹرانسپورٹ نظام کا حصہ بنانے کے لیے ان کی عملی صلاحیت، حفاظت اور آپریشنل استعداد کا جائزہ لینا ہے۔


پروگرام کے تحت ایمیزون کی حمایت یافتہ کمپنی بیٹا ٹیکنالوجیزکو فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کے آٹھ میں سے سات منصوبوں کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ابتدائی آزمائشی پروازوں کے دوران کمپنی نے بائیوٹیک فرم یونائیٹڈ تھیراپیوٹکس کے لیے تیار کیے گئے انسانی اعضا میری لینڈ اور ورجینیا کے ہوائی اڈوں کے درمیان منتقل کیے۔ ان پروازوں نے مجموعی طور پر تقریباً 275 ناٹیکل میل کا سفر طے کیا۔

بیٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کائل کلارک نے کہا کہ ان کامیاب آزمائشی مشنز سے ملک بھر میں کم لاگت پر طبی مقاصد کے لیے الیکٹرک فضائی نقل و حمل کی راہ ہموار ہوگی۔

مزیدپڑھیں:لاہور: ملزم گرفتار نہ ہونے پر زیادتی کا شکار لڑکا احتجاجاً درخت پر چڑھ گیا

ماہرین کے مطابق فضائی ٹیکسیوں کو برسوں سے شہروں میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی، طبی ایمرجنسی، مال برداری اور دفاعی مقاصد کے لیے ایک مؤثر حل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر کے باعث بیشتر کمپنیوں کو تجارتی مسافر سروسز کے آغاز کا شیڈول مؤخر کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اس پائلٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا تاکہ الیکٹرک ایئر ٹیکسیوں کی منظوری کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ یہ پروگرام امریکا کی 26 ریاستوں میں 8 مختلف منصوبوں پر مشتمل ہے، جن میں بیٹا ٹیکنالوجیز سب سے زیادہ 7 منصوبوں میں شریک ہے۔


کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا الیکٹرک ایئر ٹیکسی طیارہ 2028 تک باقاعدہ سرٹیفکیشن حاصل کرنے کی توقع رکھتا ہے، جبکہ روایتی رن وے سے اڑان بھرنے والا اس کا دوسرا برقی طیارہ 2027 میں منظوری حاصل کر سکتا ہے۔