یوکرین کو روسی میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اتحادی ممالک کا اجلاس آج پیرس میں ہو گا، جس میں فضائی دفاعی نظام کی فراہمی، روس پر نئی پابندیوں اور سکیورٹی تعاون پر غور کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی (Ukrain President)سمیت کم از کم 25 ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔
یہ اجلاس نیٹو سربراہی اجلاس کے چند روز بعد ہو رہا ہے، جس کا مقصد یوکرین کے لیے مغربی حمایت کا اعادہ کرنا اور مستقبل کے امن معاہدے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں روس نے کیف اور دیگر علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت لائی ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، صدر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روس جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف فوجی اہداف تک محدود ہیں۔
اجلاس میں امریکی پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے مزید انٹرسیپٹرز کی فراہمی، فرانس اور اٹلی کے مشترکہ فضائی دفاعی نظام کی تعیناتی تیز کرنے اور یوکرین کے لیے یورپی تعاون سے کم لاگت کے نئے اینٹی بیلسٹک دفاعی منصوبے”فریجا” کو حتمی شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں روس پر مزید اقتصادی پابندیوں، خصوصاً روسی تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے “شیڈو فلیٹ” کو نشانہ بنانے، مشترکہ دفاعی پیداوار بڑھانے اور یوکرین کے لیے طویل مدتی سکیورٹی ضمانتوں پر بھی تبادلہ خیال کی توقع کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 2 روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ گئے
خیال رہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان طویل جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، امریکا، نیٹو اور یورپی ممالک یوکرین کو عسکری اور مالی امداد فراہم کر رہے ہیں، روس کی جانب سے یوکرین کی مغربی حمایت کو جنگ طول دینے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔












پیر 13 جولائی 2026 


