وفاقی حکومت کے توشہ خانہ ایکٹ 2024 کو ڈیڑھ سال ہوچکے ہیں تاہم ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے لازمی قواعد و ضوابط ہی تشکیل نہیں دیے جاسکے۔
سال 26-2025 کی آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ توشہ خانہ ایکٹ 2024 پر مؤثر عمل درآمد کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرنا وفاقی حکومت کی قانونی ذمہ داری تھی لیکن ایکٹ بننے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد بھی ایسا نہیں کیا جاسکا۔
رپورٹ کے مطابق قواعد کی عدم موجودگی کے باعث ایکٹ کی متعدد شقوں پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق 5 نومبر 2025 کو اس معاملےکی نشاندہی کرتے ہوئےکابینہ ڈویژن سے وضاحت طلب کی گئی تھی تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی جواب فراہم نہیں کیا گیا۔
آڈٹ حکام کے مطابق قواعد و ضوابط کی عدم تشکیل نہ صرف قانون کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بن رہی ہے بلکہ پارلیمنٹ سے منظور کیےگئے قانون کے مقاصد کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
آڈٹ حکام نے سفارش کی ہےکہ توشہ خانہ ایکٹ 2024 سے متعلق قواعد و ضوابط جلد تیار کرکے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
مزیدی پڑھیں:مری، 2 کروڑ کی گیس چوری بے نقاب، ہوٹل کا غیر قانونی نیٹ ورک پکڑا گیا
توشہ خانہ ایکٹ کی منظوری کا مقصد تحائف کے اندراج، جانچ، تصرف اور شفافیت سے متعلق ایک واضح اور مؤثر نظام قائم کرنا تھا۔












منگل 14 جولائی 2026 


