لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ، جسمانی ہی نہیں ذہنی اور معاشی تشدد بھی ظلم قرار

Calender Icon منگل 21 جولائی 2026

لاہور ہائیکورٹ نے خلع سے متعلق ایک اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی، جذباتی، زبانی اور معاشی تشدد بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے شوہر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیملی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ خلع کی ڈگری دائر ہونے سے بیوی کا حق مہر خودکار طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اگر شوہر کی جانب سے ظلم ثابت ہو جائے تو بیوی حق مہر کی حقدار رہے گی۔

عدالت کے مطابق درخواست گزار نے 18 مارچ 2022 کو ایک لاکھ روپے حق مہر کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ بعد ازاں خاتون نے خلع، عدت کے دوران نان و نفقہ اور حق مہر کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ حق مہر کا مطالبہ کرنے پر شوہر نے اس پر تشدد شروع کر دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ظلم ثابت کرنے کے لیے صرف میڈیکل رپورٹ یا ایف آئی آر ہی ضروری نہیں۔ اگر متاثرہ خاتون کی گواہی قابلِ اعتماد ہو تو اسے بھی اہم شہادت تصور کیا جا سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فیملی کورٹ نے نکاح ختم کرتے ہوئے خاتون کو 50 فیصد حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ ٹرائل کورٹ نے بھی شوہر کی اپیل ناقابلِ سماعت قرار دی۔ بعد ازاں شوہر نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالت نے اس کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ خرچہ نہ دینا، بیوی کو والدین سے رقم لانے پر مجبور کرنا یا اسے گھر سے نکال دینا بھی ظلم کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایسے مقدمات میں فیملی کورٹ ہر کیس کے حقائق اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے حق مہر سے متعلق الگ فیصلہ کرے گی۔

لاہور ہائیکورٹ نے یہ بھی ہدایت کی کہ بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع کی ڈگری نہیں دی جا سکتی، جبکہ فیملی کورٹ حق مہر سے متعلق ہر فیصلے کی وجوہات تحریری طور پر ریکارڈ پر لانے کی پابند ہوگی۔ عدالت نے متعدد قانونی ہدایات جاری کرتے ہوئے شوہر کی درخواست خارج کر دی۔