فیشن کی دنیا میں عجیب اور منفرد انداز سامنے آنا نئی بات نہیں، لیکن بین الاقوامی برانڈ زارا (Zara)کی نئی متعارف کروائی گئی ’فلوئی وائڈ لیگ پینٹ‘ نے اس وقت عالمی سطح پر ایک انوکھی بحث چھیڑ دی ہے۔ چوڑی ٹانگوں اور انتہائی لمبی کٹائی والی اس پتلون کو سوشل میڈیا پر صارفین نے طنزاً ’ڈیتھ پینٹس‘ یا ’موت کی پینٹ‘ کا نام دے دیا ہے، کیونکہ اس کی زیادہ لمبائی کی وجہ سے لوگ چلتے ہوئے ٹھوکر کھا کر گر رہے ہیں۔
اس پینٹ کو پہننے والے متعدد افراد کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن عام استعمال کے لیے بالکل غیر عملی ہے۔ ڈھیلی ڈھالی اور لمبی ہونے کی وجہ سے چلتے وقت پاؤں پائنچے میں پھنس جاتا ہے، جس کی وجہ سے مصروف سڑکوں یا سیڑھیوں پر چلنا خاصا خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی خواتین نے اپنے ایسے تجربات شیئر کیے ہیں جہاں اس لباس کو پہننے کے بعد انہیں گرنے کے باعث چوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 29 سالہ کانٹینٹ کریئیٹرگزلین اینگل کو اپنے 5 فٹ 8 انچ قد کی وجہ سے ہمیشہ لمبی پینٹ تلاش کرنے میں مسئلہ رہتا تھا لیکن جب انہوں نے ایمسٹرڈیم کے ایک اسٹور میں یہ پینٹ دیکھی تو خریدے بنا نہ رہ سکیں۔
گزلین اینگل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اور بھی چوڑے پائنچوں والی لمبی پینٹس ہیں، لیکن زارا کی یہ پینٹ مختلف ہے، کیونکہ اس کے نچلے حصے میں آپ کا پورا پاؤں پھنس جاتا ہے۔
Los pantalones, supuestamente, “mortales” de Zara 😳👇 pic.twitter.com/eHFniPDUzx
— Mónica Saade (@MonicaSaadeX) July 14, 2026
سوشل میڈیا پر جب اس حوالے سے ویڈیوز اپلوڈ ہوئیں تو سینکڑوں ایسی خواتین کے تبصرے سامنے آئے جو اس پینٹ کو پہن کر گرنے کے باعث زخمی ہو چکی تھیں۔ جلد ہی انٹرنیٹ پر اس پینٹ کو ”جان لیوا پتلون“ اور ”زارا ڈیتھ پینٹس“ کا نام دے دیا گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں زارا کے نمائندے سے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
POV: You bought the Zara “death pants” for the aesthetic and now they’re trying to unalive you in the mall escalator 😭🪦
Wide-leg flowing trousers out here committing war crimes on your ankles. One wrong step and it’s game over! Fabric wraps your feet like a clingy ex, trips you… pic.twitter.com/aAioMk60mv— Anticommie (@QueenAnticommie) July 18, 2026
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ’جان لیوا پینٹ‘ پراڈکٹ ٹیسٹنگ کے مرحلے سے کیسے پاس ہوئی؟
مزیدپڑھیں:سرکاری ملازمین کی نئی تنخواہوں کا نوٹیفکیشن جاری
اس سلسلے میں فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ برینڈز کی جانب سے کپڑوں کی ٹیسٹنگ کے طریقے بھی اس کی ایک وجہ ہیں، کیونکہ ٹیسٹنگ کے دوران کپڑوں کا جائزہ، ساکت کھڑے مجسموں یا ایک جگہ کھڑی ماڈلز پر لیا جاتا ہے، جبکہ عملی زندگی میں تیز چلتے یا سیڑھیاں اترتے وقت لباس کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔
اس پینٹ کی مقبولیت اور اس سے جڑے حادثات کی ایک بڑی وجہ موجودہ دور کا وہ فیشن رجحان بھی ہے جس میں انتہائی ڈھیلے ڈھالے کپڑوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس تمام تر تنازع اور تنقید کے باوجود فیشن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی بحث اس پینٹ کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ’موت کی پتلون‘ یا ’ڈیتھ پینٹس‘ جیسا چٹپٹا نام بھی اس لباس کی غیر ارادی تشہیر کا ذریعہ بن گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کل بہت سے لوگوں کے لیے روزمرہ کی سہولت اور حفاظت کے مقابلے میں جدید فیشن کا حصہ بننا زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض افراد نئے فیشن ٹرینڈ سے پیچھے رہنے کے بجائے اس لباس سے وابستہ ممکنہ خطرات کو بھی قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔













بدھ 22 جولائی 2026 

