بجلی بلزیا ٹیکس وصولی کا ہتھیار؟ قوم کی جیب پر 476 ارب کا ڈاکہ، قائمہ کمیٹی

Calender Icon جمعرات 30 جولائی 2026

اسلام آباد: سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں ایف بی آر حکام نے انکشاف کیا ہےکہ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں بجلی کے بلوں پر ٹیکس کی مد میں 476 ارب روپے سے زائد جمع کیے۔

ایف بی آر حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 476 ارب میں سے 351 ارب روپے سیلز ٹیکس اور 124 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں جمع کیے گئے ہیں۔

مالی سال 25-2024 میں 562 ارب روپے ، مالی سال 24-2026 میں 515ارب روپے اور مالی سال 23-2022 میں 313ارب روپے جمع کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران انکم ٹیکس ( ودہولڈنگ ٹیکس) کی مد میں صنعتی صارفین سے 66 ارب روپے، کمرشل صارفین سے 52 ارب روپے، گھریلو صارفین نان فائلرز سے4 ارب 82 کروڑر وپے ، گھریلو صارفین سے 235 اے کے تحت ایک ارب 37کروڑ روپےجمع کیے گئے ہیں،۔

اس کے علاوہ 351 ارب روپے کے سیلز ٹیکس میں 269 ارب روپے نارمل سیلز ٹیکس، 55 ارب روپے اضافی ٹیکس، 55 ارب روپے مزید ٹیکس اور ساڑھے 16ارب روپے ریٹیلرز سے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر قائمہ کمیٹی نے بینکوں میں خواتین کے عبایا پہننے کو لازمی قرار دینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سینیٹر زرقا نے کہا کہ کئی بینکوں میں خواتین کو عبایا پہننے پر مجبور کیاجارہا ہے۔

مزید پڑھیں:مصر کی بندرگاہ پر دھماکہ، 2 جہاز تباہ، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے نیا رخ اختیار کر لیا

اس پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو واضح ہدایت جاری کی ہیں کہ عبایا پہننے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔کمیٹی نے بینکوں کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے سرکلر جاری کرے رپورٹ کمیٹی کو بھیجیں۔