عالمی جنگوں سے غذائی قیمتیں ساڑھے 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، اقوام متحدہ

Calender Icon جمعہ 7 اگست 2026

موسمیاتی تبدیلی، ہیٹ ویو، یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جنگوں نے عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا۔ چینی کی قیمتوں میں جولائی کے دوران 5.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جولائی 2026 میں عالمی غذائی اشیا کا قیمتوں کا اشاریہ بڑھ کر 131.1 پوائنٹس تک پہنچ گیا جو جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے مطابق جولائی میں عالمی سطح پر اناج کی قیمتوں میں 3.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ صرف گندم کی قیمتیں 5.8 فیصد بڑھ گئیں۔ Birds

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپ میں جون کی تاریخی ہیٹ ویو کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ ٹن گندم، جو، مکئی اور جئی سمیت مختلف فصلیں تباہ ہوئیں۔ جس سے عالمی سپلائی مزید متاثر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق شدید گرمی کی لہروں نے دنیا کے کئی بڑے زرعی ممالک میں گندم کی پیداوار متاثر کی، جبکہ یوکرین اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمدات میں رکاوٹوں نے بھی قیمتوں میں اضافہ کیا۔

علاوہ ازیں روس اور یوکرین کے درمیان حملوں سے برآمدی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور شپنگ میں رکاوٹوں نے بھی عالمی منڈی پر دباؤ بڑھایا۔

ایف اے او کے مطابق یورپی یونین میں مسلسل گرم اور خشک موسم، تیزی سے شدت اختیار کرنے والے ایل نینو کے خدشات اور برازیل میں پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ بڑھانے کے نئے ضوابط نے چینی کی طلب میں اضافہ کیا۔

اسی طرح خوردنی تیل کی قیمتیں 2 فیصد بڑھیں، جس کی وجہ انڈونیشیا میں بائیو ڈیزل کی بڑھتی طلب اور خام تیل کی بلند قیمتیں قرار دی گئیں۔

رپورٹ میں ایران سے متعلق کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے جس کی بندش نے کھاد کی رسد اور لاگت پر اثر ڈالا اور زرعی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔

دوسری جانب گوشت کی عالمی قیمتوں میں جولائی کے دوران 2.8 فیصد کمی آئی جو رواں سال کی پہلی ماہانہ کمی ہے۔ مرغی، سور اور گائے کے گوشت کی قیمتیں بھی نیچے آئیں تاہم شدید گرمی کے باعث مویشیوں کی افزائش سست ہونے سے قیمتوں میں مزید کمی محدود رہی۔

دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بنیادی وجہ مکھن اور دودھ کے پاؤڈر کی قیمتوں میں کمی تھی۔

ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام غذائی اجناس مہنگی ہونے کے اثرات آنے والے مہینوں میں صارفین تک بھی منتقل ہوں گے کیونکہ سپلائرز اپنی بڑھتی لاگت خوردہ قیمتوں میں شامل کریں گے۔

مزید پڑھیں:اداکار و تامل ناڈو وزیراعلیٰ وجے کی اہلیہ نے طلاق کی درخواست واپس لے لی

ادھر اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات کے باعث آئندہ سال کے اختتام تک مزید 5 کروڑ افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے پہلے ہی متاثرہ غریب ممالک میں خوراک کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔