عمران خان اب بھی صدارتی نظام کے حق میں ہیں: شاہ فرمان

Calender Icon اتوار 16 اگست 2026

کراچی: رہنما پی ٹی آئی اور سابق گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اب بھی پاکستان میں صدارتی نظام کے حامی ہیں۔

شاہ فرمان نے کہا کہ وہ پہلے بھی صدارتی نظام اور نئے صوبوں کے قیام کو پاکستان کے لیے بہتر سمجھتے تھے اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔

شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ جو شخص عالمی سیاسی نظاموں سے واقف ہو، مختلف ممالک کے آئین کا تقابلی جائزہ لے اور ان کی ثقافت و تہذیب کا مطالعہ کرے، وہ اس نتیجے پر پہنچے گا کہ پاکستان کے لیے صدارتی نظام اور فعال، آزاد اور خودمختار یونٹس زیادہ موزوں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے فنڈز صرف وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں محدود نہیں رہیں گے بلکہ اختیارات اور وسائل زیادہ مؤثر انداز میں نچلی سطح تک منتقل ہوسکیں گے۔

سابق گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے نام پر صوبوں کو بڑی رقوم دی گئیں، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ یہ صوبے نہیں بلکہ چار ممالک بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب اور سندھ میں سیاسی خاندان اور سیاسی گدی نشین مضبوط ہوچکے ہیں۔

شاہ فرمان نے بتایا کہ ماضی میں صدارتی نظام اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے ان کے مؤقف پر اعظم سواتی نے عمران خان سے شکایت بھی کی تھی۔ ان کے مطابق عمران خان نے پروگرام میں پیش کیے گئے نکات دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کا حل یہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اب بھی صدارتی نظام کے حق میں ہیں۔

شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس، خودمختار مقامی حکومتیں اور براہِ راست منتخب صدر کا نظام قائم کردیا جائے تو ملک کو درپیش بہت سے عملی مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں اختیارات اور وسائل کا ارتکاز مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتا ہے، جبکہ بااختیار مقامی حکومتوں اور چھوٹے یونٹس کے ذریعے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ مؤثر نمائندگی اور سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

شاہ فرمان نے مزید کہا کہ پاکستان کے موجودہ سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور ان کے نزدیک صدارتی نظام، نئے یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتیں ملک کو درپیش انتظامی اور سیاسی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔