اسلام آباد: حکومت نے قائداعظم محمد علی جناح کی علالت سے متعلق پیشہ ورانہ رازداری برقرار رکھنے والے بمبئی سے تعلق رکھنے والے دو پارسی ڈاکٹروں اور معروف اسلامی مفکر محمد اسد کے لیے نشانِ امتیاز کی منظوری دے دی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ایوارڈز کمیٹی کے سربراہ احسن اقبال نے بتایا کہ دونوں ڈاکٹروں نے قیامِ پاکستان کے انتہائی نازک مرحلے میں قائداعظم کی شدید بیماری سے متعلق معلومات کو صیغۂ راز میں رکھا۔
احسن اقبال کے مطابق ان ڈاکٹروں میں ایک معالج اور ایک ریڈیالوجسٹ شامل تھے، جنہوں نے قائداعظم کی بیماری کے بارے میں پیشہ ورانہ رازداری برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کی خدمات کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنا پاکستان کی فکری اور تاریخی یادداشت کا حصہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بعد میں اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ اگر انہیں قائداعظم کی بیماری کی سنگینی کا علم ہوتا تو ممکن ہے کہ وہ تقسیم ہند میں تاخیر کرتے، جس کے نتیجے میں تاریخ کا دھارا مختلف ہوسکتا تھا۔
احسن اقبال نے دونوں ڈاکٹروں کے کردار کو ایک خاموش مگر غیر معمولی خدمت قرار دیا۔
حکومت نے معروف اسلامی مفکر محمد اسد کے لیے بھی نشانِ امتیاز کی منظوری دی ہے۔ یورپ میں پیدا ہونے والے محمد اسد نے اسلام قبول کرنے کے بعد پاکستان کو اپنا وطن بنایا اور علامہ محمد اقبال کے قریبی فکری رفقا میں شمار ہوئے۔
محمد اسد نے ہندوستان کے سفر کا آغاز لیکچر ٹورسٹ کے طور پر کیا تھا۔ وہ ایک بحری جہاز کے ذریعے کراچی پہنچے تھے اور امرت سَر روانہ ہو گئے تھے۔ بعد میں کشمیر اور لاہور میں مقامی مسلمانوں میں گھل مل گئے۔ محمد اسد جلد ہی کشمیر سے لاہور ہی آ گئے اور یہیں شاعر و فلسفی علاّمہ محمد اقبال سے ملے، جن کے کہنے پر ہندوستان میں رہتے ہوئے مستقبل کی اسلامی ریاست کی حدودِ دانش وضع کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ 1934ء میں محمد اسد نے ’’اسلام ایٹ دی کراس روڈز‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ شایع کیا، جو اسلامی فکر کے حوالے سے ان کا پہلا جرأت مندانہ کام تھا۔ یہ کتابچہ مغرب کی مادّہ پرستی کے خلاف ایک ہجو کی طرح تھا، جسے اسلامی دنیا میں بے حد پزیرائی ملی۔
انہوں نے صلیبی جنگوں اور جدید سامراجیت کے درمیان ایک درمیان ایک لکیر کھینچی اور مغربی مستشرقین کو اسلامی تعلیمات کو بگاڑ کر پیش کرنے کا ذمّے دار ٹھہرایا۔ بعد ازاں، محمد اسد کے اس کتابچے کے پاکستان اور بھارت میں کئی ایڈیشنز شایع ہوئے۔ تاہم، سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ تحریر 1946ء میں بیروت میں عربی ترجمے کے ساتھ منظرِ عام پر آئی اور اس کے متعدد نسخے شایع ہوئے۔ 1936ء میں وہ حیدر آباد، دکن کے نظام میر عثمان علی خان کی سرپرستی میں ’’ اسلامی ثقافت‘‘ کے نام سے ایک اخبار نکالنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عالمانہ تحریروں اور متن کے تراجم کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔
1939ء کے موسمِ بہار میں وہ یورپ واپس چلے گئے۔ انھوں نے تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں وزارتِ خارجہ میں ذمہ داری نبھائی اور مسلم ممالک سے روابط و تعلقات مضبوط کرنے کی سعی کرتے رہے۔ محمد اسد نے 80 برس کی عمر میں “قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ اور تفسیر” مکمل کی تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے آخری دن اسپین میں گزارے اور ملاگا کے مسلمان قبرستان میں مدفون ہیں۔
ان کی مشہور تصانیف میں اسلام ایٹ دی کراس روڈ، پرنسپل آف اسٹیٹ اینڈ گورننس ان اسلام، دی میسج آف اسلام اور صحیح بخاری کا انگریزی ترجمہ بھی شامل ہے۔
محمد اسد کی خدمات کے عوض آسٹریا حکام نے ویانا میں ایک میدان ان کے نام سے منسوب کیا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد محمد اسد نے اہم سفارتی اور فکری ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ پاکستان کے ابتدائی پاسپورٹ رکھنے والوں میں شامل تھے اور بعد میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی۔
قرآن مجید کے انگریزی ترجمے اور تشریح پر مشتمل ان کی معروف کتاب The Message of the Quran جدید اسلامی فکر میں اہم علمی کام سمجھی جاتی ہے۔













اتوار 16 اگست 2026 

