پنجاب اور سندھ حکومتیں گندم (wheat)کی درآمد کے معاملے پر اپنا مؤقف تبدیل کرنے لگی ہیں، اور گزشتہ ہفتے ہونے والے اعلیٰ سطح کے تین اجلاسوں کے باوجود گندم کی درآمد کی حتمی مقدار طے نہیں کی جا سکی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر رانا تنویر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پنجاب حکومت نے موقف اختیار کیا کہ گندم کی درآمد سے ہمارا نام نکال دیا جائے۔ اس کے بعد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت 11 اگست کو گندم کی درآمد پر دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔
جس میں سندھ کے حکام نے بھی مطالبہ کیا کہ گندم کی درآمد سے ان کا نام بھی خارج کر دیا جائے۔ صوبوں کے اس یوٹرن پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار برہم ہوئے اور ہدایت کی کہ متعلقہ حکام جا کر اس معاملے پر دوبارہ مشاورت کر کے آئیں۔
مزیدپڑھیں:’مجھے بدنام کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی‘، اہلیہ کے الزامات پر گووندا کا سخت ردعمل
15 اگست کو ہونے والے تیسرے اجلاس میں سندھ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 5 لاکھ کے بجائے 3 لاکھ ٹن گندم درآمد کرا دی جائے۔ تاہم، پنجاب نے اس تیسرے اجلاس میں بھی گندم کی درآمد کے حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں دیا، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے 2 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا کہا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ رواں ہفتے گندم کی درآمد کی مقدار اور مختلف صوبوں کے شیئر کا حتمی فیصلہ کرنے کے لیے ایک اور اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔













پیر 17 اگست 2026 

