پاکستان میں غربت کی ہولناک تصویر : غریب کی پلیٹ مزید سکڑ گئی

Calender Icon بدھ 19 اگست 2026

پاکستان(Pakistan) میں بڑھتی مہنگائی اور آمدنی میں کمی نے عوام کی پلیٹ سے متوازن غذا بھی چھین لی، 63فیصد لوگ آج صحت بخش خوراک خریدنے سے بھی قاصر ہے۔

اقوام متحدہ کی اسٹیٹ آف فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026 رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کی 63 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 16 کروڑ 10 لاکھ افراد، ایک وقت کی معیاری اور صحت بخش خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں صحت بخش خوراک نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اسے خریدنے کی صلاحیت رکھنے والے پاکستانیوں کی تعداد خطے میں کم ترین سطح پر ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خوراک کی دستیابی کا نہیں بلکہ عوام کی قوتِ خرید کا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2018-19 سے 2024-25 کے دوران پاکستانی گھرانوں کی اوسط ماہانہ آمدنی 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہوگئی، تاہم اسی عرصے میں غربت کی لکیر فی کس 3 ہزار 758 روپے سے بڑھ کر 8 ہزار 484 روپے تک پہنچ گئی۔

مہنگائی کو نکالنے کے بعد حقیقی آمدنی میں تقریباً 13 فیصد کمی ہوئی، جبکہ غربت کی شرح 21.9 فیصد سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔

مزیدپڑھیں:عمران خان کو رات گئے تک اسلام آباد کے نجی ہسپتال منتقل نہ کیا جاسکا

معاشی ماہرین کا اظہار تشویش
نجی ٹی وی کے پروگرام خبر میں معاشی ماہرین نے ملک کی معاشی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار بیرونی اندازوں پر نہیں بلکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ہاؤس ہولڈ انکم اینڈ ایکسپینڈیچر سروے پر مبنی ہیں۔

عابد قیوم سلہری کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافہ اور امیر و غریب کے درمیان معاشی فرق بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب خوراک، کرایہ، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی اخراجات پورے کرنے کے بعد تعلیم اور صحت کے لیے گھرانوں کی آمدنی کا 5 فیصد سے بھی کم بچتا ہو تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں پر پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مسئلہ صرف آج کی خوراک کا نہیں بلکہ بچوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کا بھی ہے۔

دوسری جانب ماہرِ فوڈ سیکیورٹی شمس السلام خان نے سرکاری اعداد و شمار سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ زمینی صورتحال ان اعداد و شمار سے زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران عام لوگوں کی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا، جبکہ کھانے پینے کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

شمس السلام خان کے مطابق کم آمدنی والے طبقے کی آمدنی کا بڑا حصہ کچن کے بنیادی اخراجات پر خرچ ہورہا ہے۔ آٹا، چاول اور دودھ سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کے باعث لوگ اپنی خوراک کم کرنے پر مجبور ہیں۔

ماہرِ فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ زمینی مشاہدات اور بعض سرکاری سرویز سے بھی یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانیوں نے گندم، آٹے، دودھ اور دیگر بنیادی غذاؤں کی کھپت کم کردی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کو صرف گندم کی پیداوار یا آٹے کی قیمت سے نہیں بلکہ اس بات سے جانچنے کی ضرورت ہے کہ عام شہری دال، دودھ، انڈے، سبزیاں، پھل اور گوشت جیسی متوازن خوراک خریدنے کی کتنی استطاعت رکھتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پانچ سال سے کم عمر ہر تین میں سے تقریباً ایک پاکستانی بچہ عمر کے لحاظ سے مطلوبہ نشوونما حاصل نہیں کر پاتا، جبکہ غذائی قلت اور خون کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی دباؤ جاری رہا تو غذائی عدم تحفظ کا اثر صرف آج کی نسل نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت اور پیداواری صلاحیت پر بھی پڑسکتا ہے۔