امریکا کا مجموعی قرض پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا

Calender Icon جمعرات 20 اگست 2026

امریکا کا مجموعی سرکاری قرض(Debt) پہلی بار 40 کھرب ڈالر سے تجاوز کرگیا، جس کے بعد ماہرین اور بجٹ پر نظر رکھنے والے اداروں نے امریکی معیشت کو درپیش بڑھتے مالی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق قرض میں تیزی سے اضافہ سماجی بہبود کے پروگراموں، سود کی ادائیگیوں اور حکومتی آمدن و اخراجات کے درمیان بڑھتے فرق کے باعث ہوا۔

محکمہ خزانہ کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق منگل کو امریکی حکومت کا مجموعی قرض 40.047 کھرب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اس میں عوام کے پاس موجود ٹریژری سیکیورٹیز کا قرض 32.266 کھرب ڈالر جبکہ حکومتی اداروں کے درمیان واجب الادا قرض 7.782 کھرب ڈالر ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکی حکومت کا قرض ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں دگنے سے زیادہ ہوگیا۔ جنوری 2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلی بار صدر بننے کے وقت امریکی قرض تقریباً 19.95 کھرب ڈالر تھا۔

ٹرمپ اور بائیڈن ادوار میں قرض میں بڑا اضافہ
رپورٹ کے مطابق امریکی قرض میں اضافے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کورونا وبا کے دوران حکومتی اخراجات اور معاشی امدادی اقدامات سے منسلک ہے، جو ٹرمپ اور سابق صدر جو بائیڈن کے ادوار میں کیے گئے۔

ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران امریکی قرض میں 7.8 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ بائیڈن کے دور میں قرض مزید 8.4 کھرب ڈالر بڑھا۔ ٹرمپ کے موجودہ دورِ صدارت، جو جنوری 2025 میں شروع ہوا، کے دوران بھی امریکی قرض میں اب تک 3.8 کھرب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے۔

غیر جانب دار کمیٹی فار اے ریسپانسبل فیڈرل بجٹ کے مطابق دونوں صدور کی پالیسیوں نے امریکی قرض میں اضافے کی رفتار کو مزید بڑھایا ہے۔

ٹرمپ کے نئے قانون سے مزید 4.7 کھرب ڈالر قرض بڑھنے کا امکان
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے اہم قانون ون بگ بیوٹی فل بل ایکٹ سے امریکی قرض میں مزید 4.7 کھرب ڈالر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ تخمینہ امریکی کانگریس کے بجٹ آفس نے پیش کیا ہے۔

امریکی حکومت رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں پہلے ہی گزشتہ پورے مالی سال کے مقابلے میں زیادہ بجٹ خسارہ ریکارڈ کرچکی ہے۔ صرف جولائی میں امریکی بجٹ خسارہ 432 ارب ڈالر رہا، جو امریکی تاریخ کا چوتھا بڑا ماہانہ خسارہ ہے۔

امریکی حکومت سالانہ تقریباً 7 کھرب ڈالر خرچ کرتی ہے، جس کا تقریباً 60 فیصد لازمی اخراجات، بشمول سوشل سیکیورٹی، میڈی کیئر، میڈی کیڈ اور سابق فوجیوں کی مراعات پر خرچ ہوتا ہے۔

مزیدپڑھیں:گوگل کی تقریب رونمائی، نئے آپریٹنگ سسٹم اور متعدد آلات پیش کیے جائیں گے

امریکی قرض پر سود کی ادائیگی کے لیے تقریباً 1.1 کھرب ڈالر درکار ہیں۔ بڑھتے قرض اور بلند شرح سود کے باعث سود کی ادائیگیوں کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں سود کی ادائیگیاں میڈی کیئر کے صحت کے اخراجات سے بھی تجاوز کرگئیں اور سوشل سیکیورٹی کے بعد امریکی بجٹ میں دوسری سب سے بڑی مد بن گئیں۔

طویل مدتی امریکی بانڈز پر منافع کی شرح بلند
دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی ٹریژری بانڈز کی طلب میں بھی کمی دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ روز 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈز کی منافع کی شرح تقریباً دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے طویل مدتی امریکی بانڈز کی منافع کی شرح کم کرنے کے لیے 10 سے 30 سالہ ٹریژری بانڈز کی بائی بیک اسکیم کا حجم بڑھا کر کم از کم 4 ارب ڈالر فی آپریشن کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلند بانڈ ییلڈز کے باعث عام طور پر رہن، گاڑیوں اور کاروباری قرضوں پر شرح سود بھی بڑھتی ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر شرح سود میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضبوط امریکی معیشت کی صورت میں شرح سود کم ہونی چاہیے۔