لندن: سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم اور وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے عمران خان کی طویل قید اور مبینہ تنہائی کے معاملے پر خاموشی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ عمران خان گزشتہ تین برس سے سیاسی مخالفت کے باعث قید ہیں اور ان کے مطابق طویل تنہائی اور بنیادی انسانی سہولیات سے محرومی ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو تقریباً 10 ماہ سے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ کتابوں، وکلا اور ڈاکٹروں تک رسائی سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی محدود ہیں۔ جمائما نے اقوام متحدہ کے نیلسن منڈیلا رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 روز سے زائد مسلسل تنہائی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے منافی سمجھی جاتی ہے۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی عمران خان کے لیے جامع طبی معائنے، ذاتی معالج تک رسائی، اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطے کے احکامات دیے، تاہم ان کے بقول ان احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
انہوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ پاکستان سے عدالتی احکامات کی پاسداری، عمران خان کو طبی سہولیات اور اہل خانہ سے ملاقات کا حق دینے، طویل تنہائی ختم کرنے اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرے۔
جمائما نے کہا کہ عمران خان کے برطانیہ سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور برطانیہ میں کرکٹ بھی کھیلتے رہے ہیں، جبکہ ان کے دونوں بیٹے برطانوی شہری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹوں کو اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان جانے میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ دور بیٹھ کر ان کی صحت میں مبینہ خرابی دیکھنے پر مجبور ہیں۔
جمائما گولڈ اسمتھ نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر برطانوی حکومت سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم ان کے مطابق پسِ پردہ سفارتی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں۔ انہوں نے برطانوی دفتر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ عمران خان کے معاملے پر واضح اور کھل کر مؤقف اختیار کرے۔
مزید پڑھیں:کشمیر، 3 نوجوانوں کی گردن کٹی لاشیں نیلم ویلی کے جنگل سے برآمد، اسپتال منتقل
انہوں نے برطانوی حکومت کو یاد دلایا کہ پاکستان دولتِ مشترکہ کا رکن ملک ہے اور برطانیہ کی طویل روایت انسانی حقوق، منصفانہ سلوک اور من مانے حراست کے خلاف آواز اٹھانے کی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اصولوں کا تقاضا ہے کہ برطانیہ عمران خان کے معاملے پر بھی اپنا کردار ادا کرے۔













پیر 24 اگست 2026 

