وزارت اطلاعات و نشریات نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سے منسوب ایک ویڈیو کو فیک قرار دیتے ہوئے “خبر شیئر کرنے سے قبل آفیشل سورسز سے ویری فائی” کرنے کی تلقین کی ہے۔
وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی جس میں خواجہ آصف کو بظاہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں خواجہ آصف درخواست کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں کہ “میرے عزیز ہم وطنو آج ذرا اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالیے۔” ویڈیو کے مطابق وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی، تاہم دونوں ممالک کی ترقی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
فیک ویڈیو میں وزیر دفاع سے یہ بیان بھی منسوب کیا گیا کہ بلوچستان ’’ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے، خیبر پختونخوا میں عوام پریشان ہے، اور آزاد کشمیر کے لوگ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر اتر چکے ہیں۔”
ویڈیو میں بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ دوسری جانب بھارت ٹیکنالوجی، انفرا اسٹرکچر اور معیشت کے شعبوں میں ترقی کر رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے خواجہ آصف کی بھارت سے متعلق ویڈیو کو فیک قرار دیدیا
وزارت اطلاعات و نشریات نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سے منسوب ایک ویڈیو کو فیک قرار دیتے ہوئے “خبر شیئر کرنے سے قبل آفیشل سورسز سے ویری فائی” کرنے کی تلقین کی ہے۔
وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی جس میں خواجہ آصف کو بظاہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں خواجہ آصف درخواست کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں کہ “میرے عزیز ہم وطنو آج ذرا اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالیے۔” ویڈیو کے مطابق وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی، تاہم دونوں ممالک کی ترقی میں واضح فرق نظر آتا ہے۔
فیک ویڈیو میں وزیر دفاع سے یہ بیان بھی منسوب کیا گیا کہ بلوچستان ’’ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے، خیبر پختونخوا میں عوام پریشان ہے، اور آزاد کشمیر کے لوگ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر اتر چکے ہیں۔”
ویڈیو میں بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ دوسری جانب بھارت ٹیکنالوجی، انفرا اسٹرکچر اور معیشت کے شعبوں میں ترقی کر رہا ہے۔
ویڈیو میں ان سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ “آج ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا میں سچ میں ایک ڈیموکریسی ہیں”، اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے حکومت اور اپنی پالیسیوں پر سوال اٹھانے چاہئیں۔
مزید پڑھیں:موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کر دی، وزیر اعظم کی قوم کو مبارکباد
ویڈیو میں ان سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ “آج ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا میں سچ میں ایک ڈیموکریسی ہیں”، اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے حکومت اور اپنی پالیسیوں پر سوال اٹھانے چاہئیں۔













پیر 24 اگست 2026 

