زبانیں سیکھنا صرف علم میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ دماغ کو عمر بڑھنے کے اثرات سے بھی کسی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یورپی فیڈریشن آف نیورو سائنس سوسائٹیز (FENS) کے فورم میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ ان کی حقیقی عمر کے مقابلے میں نسبتاً کم عمر دکھائی دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ اثر ان افراد میں زیادہ نمایاں پایا گیا جنہوں نے دوسری زبان کم عمری میں سیکھنا شروع کی اور اس میں زیادہ مہارت حاصل کی۔
کثیر لسانی ہونا اور دماغ کی عمر
یہ تحقیق اسپین کے شہر سان سیبستیان میں قائم باسک سینٹر فار کاگنیشن، برین اینڈ لینگویج کی ڈاکٹر لوسیا اموروسو نے پیش کی۔ تحقیق میں چلی کی ایڈولفو ایبانیز یونیورسٹی، ارجنٹائن کی یونیورسٹی آف سان آندریس اور آئرلینڈ کی ٹرینیٹی کالج ڈبلن کے محققین نے بھی تعاون کیا۔
تحقیقی ٹیم اس سے قبل بھی ایک مطالعہ کرچکی ہے، جس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ کثیر لسانی ماحول میں رہنے والے افراد کے دماغ کی عمر بڑھنے کا عمل نسبتاً سست ہوسکتا ہے۔
حالیہ تحقیق میں اسپین کے باسک خطے کے رہائشیوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں لوگ ایک سے چار زبانیں بولتے ہیں۔ ان زبانوں میں ہسپانوی، باسکی، فرانسیسی اور انگریزی شامل تھیں۔
دماغ کی عمر ناپنے کی گھڑی
محققین نے دماغ کی عمر بڑھنے کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے ابتدائی طور پر 728 افراد کا مطالعہ کیا اور دماغی عمر کی ایک ’گھڑی‘ تیار کی۔ اس مقصد کے لیے میگنیٹو اینسیفالوگرافی (MEG) ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جو دماغی خلیوں کی سرگرمی سے پیدا ہونے والے انتہائی کمزور مقناطیسی میدانوں کی پیمائش کرتی ہے۔
اس کے بعد مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے مختلف عمروں کے افراد کے دماغی سرگرمی کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، جس سے عمر کے مختلف مراحل میں دماغی رابطوں کے معمول کے نمونوں کا اندازہ لگایا گیا۔
بعدازاں یہ ’دماغی عمر کی گھڑی‘ 144 افراد کے ایک الگ گروپ پر لاگو کی گئی تاکہ ان کی اندازاً دماغی عمر معلوم کی جاسکے۔
نتائج میں دلچسپ فرق سامنے آیا۔ دو زبانیں بولنے والے افراد کی دماغی عمر، صرف ایک زبان بولنے والوں کے مقابلے میں تقریباً 6 سال کم دکھائی دی۔
مزیدپڑھیں:جاپانی وزیر اعظم کاکروچ کے مرنے پر اداس ہو گئیں
تین زبانیں بولنے والوں میں یہ فرق تقریباً 7 سال جبکہ چار زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ ان کی حقیقی عمر کے مقابلے میں تقریباً 13 سال کم عمر دکھائی دیا۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر لوسیا اموروسو کے مطابق سادہ الفاظ میں متعدد زبانیں بولنے والے افراد کے دماغ ان کی حقیقی عمر کے اعتبار سے توقع سے زیادہ کم عمر دکھائی دیتے ہیں۔
زبان سیکھنے کی عمر اور مہارت بھی اہم
محققین کے مطابق دماغی عمر میں یہ فرق صرف بولی جانے والی زبانوں کی تعداد تک محدود نہیں تھا۔ زبان پر زیادہ عبور اور دوسری زبان کم عمری میں سیکھنا بھی دماغ کی عمر بڑھنے کے عمل میں تاخیر سے منسلک پایا گیا۔
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کثیر لسانی تجربہ بتدریج اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی صرف دو زبانیں جاننا ہی اہم نہیں بلکہ زبان سیکھنے کی مدت، کم عمری میں سیکھنے کا آغاز اور اس میں مہارت بھی کردار ادا کرتی ہے۔
مزید تحقیق کا منصوبہ
ڈاکٹر اموروسو اور ان کے ساتھی اب یہ جاننے کے لیے مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ آیا کثیر لسانی ہونے کے ایسے ہی اثرات اعصابی تنزلی کی بیماریوں، خصوصاً الزائمر کے مریضوں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
محققین یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ایک دوسرے سے ملتی جلتی دو یا اس سے زیادہ زبانیں بولنے سے دماغ پر زیادہ مضبوط اثر پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق ملتی جلتی زبانوں کے درمیان بار بار تبدیلی کے لیے دماغ کو زیادہ کنٹرول درکار ہوسکتا ہے، کیونکہ بولنے والے کو بیک وقت ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والے الفاظ اور لسانی نظاموں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔













بدھ 26 اگست 2026 

