پمز سانحہ: وزیراعظم نے سیکرٹری صحت کو فوری عہدے سے ہٹا دیا

Calender Icon بدھ 26 اگست 2026

اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے متعلقہ افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری طور پر معطل کرکے عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر بیرسٹر نویل اعوان کو کمیٹی کا رکن شامل کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے پمز سانحے کے بعد ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا، جس کے لیے وزارت صحت کے تمام متعلقہ حکام کو فوری طور پر وزیراعظم ہاؤس طلب کیا گیا۔

واضح رہے کہ پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں 15 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جس کی اسپتال حکام نے تصدیق کی۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر لگی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 16 بچے موجود تھے، تاہم ایک لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچانے میں کامیاب ہوئیں، جبکہ 15 نومولود جاں بحق ہوگئے۔

آگ لگنے کی وجہ سے متعلق ابتدائی اطلاعات میں ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کا ذکر کیا گیا، جبکہ بعد میں شارٹ سرکٹ کو بھی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔

واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی پہلے ہی قائم کی جاچکی تھی۔ اب وزیراعظم کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے الگ انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

ترجمان پمز اسپتال کے مطابق آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے تمام نومولود بچوں کی میتیں ان کے لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔