سونے کی قیمت دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئی

Calender Icon پیر 31 اگست 2026

سونے (Gold Rates)کی عالمی قیمت پیر کو مزید کمی کے بعد تقریباً دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے سخت گیر مؤقف نے شرح سود میں اضافے کے خدشات کو تقویت دی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0406 جی ایم ٹی تک 0.8 فیصد کمی کے بعد 4,417.04 ڈالر فی اونس ہوگئی، جو 19 اگست کے بعد سونے کی کم ترین سطح ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو بھی سونے کی قیمت میں 3 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

دوسری جانب امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 1.4 فیصد کمی کے بعد 4,466.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔

وارش کے بیان نے سونے پر دباؤ بڑھا دیا

جیکسن ہول اقتصادی سمپوزیم میں فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کے سخت گیر مؤقف کے بعد سونے کی مارکیٹ دباؤ میں ہے اور قیمتیں اب تک اس جھٹکے سے مکمل طور پر سنبھل نہیں سکی ہیں۔

وارش نے جمعہ کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر پالیسی سازوں کو یہ اطمینان حاصل نہ ہوا کہ افراطِ زر دوبارہ 2 فیصد کے ہدف کی جانب بڑھ رہا ہے تو فیڈرل ریزرو کو مزید اقدامات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ ان کے بیان کو اس بات کے اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

بلند شرح سود کے ماحول کو عموماً سونے کے لیے منفی سمجھا جاتا ہے کیونکہ سونا کوئی سود یا باقاعدہ منافع فراہم نہیں کرتا۔ شرح سود بڑھنے پر سرمایہ کار سود دینے والے اثاثوں کی جانب زیادہ راغب ہوسکتے ہیں، جس سے سونے کی کشش کم ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

ستمبر میں شرح سود بڑھنے کا امکان

سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق مارکیٹس میں اس وقت ستمبر میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا امکان 60 فیصد تک دیکھا جارہا ہے۔

سرمایہ کار اب امریکی مرکزی بینک کی پالیسی، افراطِ زر کے اعدادوشمار اور معاشی سرگرمیوں سے متعلق آنے والی رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان عوامل کا براہِ راست اثر سونے سمیت عالمی مالیاتی مارکیٹوں پر پڑتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور تیل کی قیمتیں

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ ایران میں امریکی فوجی کارروائی کے باعث تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ پیدا ہوا، جس نے افراطِ زر کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور سونے کی مارکیٹ کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ ایران کا اہم توانائی مرکز خارگ آئی لینڈ (Kharg Island) تباہ و برباد ہورہا ہے۔ ان کا یہ بیان امریکی فورسز کی جانب سے ایک اور جزیرے پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق جولائی کے آخر کے بعد ایران پر یہ پہلی معروف امریکی فوجی کارروائیاں ہیں، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور توانائی کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔

مزیدپڑھیں:نہ ماں لینے آئی، نہ باپ نے پلٹ کر دیکھا، پمز کا ’علی‘ آتشزدگی سانحہ میں جان سے گیا، ایک اور درد ناک کہانی سامنے آگئی

ان حالات کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اگرچہ سونے کو روایتی طور پر افراطِ زر اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے خلاف تحفظ کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود کی توقعات اس کے لیے دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔

امریکی روزگار کے اعدادوشمار اہم ہوں گے

رواں ہفتے امریکی لیبر مارکیٹ سے متعلق کئی اہم اقتصادی رپورٹس جاری ہوں گی، جن پر سرمایہ کاروں کی خصوصی نظر ہوگی۔

ان میں ملازمتوں کی خالی آسامیوں کے اعدادوشمار، اے ڈی پی روزگار رپورٹ، ہفتہ وار بے روزگاری الاؤنس کے دعوے اور اہم نان فارم پے رولز رپورٹ شامل ہیں۔

ٹم واٹرر کے مطابق نان فارم پے رولز رپورٹ سونے کی قیمتوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط روزگار کے اعدادوشمار جیکسن ہول کے بعد سونے میں جاری کمزوری کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ کمزور اعدادوشمار مارکیٹ میں شارٹ پوزیشنز بند ہونے کے نتیجے میں قیمتوں میں عارضی تیزی کا سبب بن سکتے ہیں۔

دیگر قیمتی دھاتیں بھی دباؤ میں

سونے کے علاوہ دیگر اہم قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

اسپاٹ سلور 0.4 فیصد کمی کے بعد 66.10 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.3 فیصد کمی کے بعد 1,797.03 ڈالر فی اونس جبکہ پلیڈیم 2.5 فیصد کمی کے بعد 1,386.96 ڈالر فی اونس پر آگیا۔

دریں اثنا بی ایم آئی کے مطابق چاندی کی قیمتوں کے موجودہ سطح کے قریب رہنے کا امکان ہے۔ چاندی کو سرمایہ کاری کی مستحکم طلب اور کانوں سے محدود رسد کا سہارا حاصل رہے گا، تاہم فزیکل مارکیٹ میں قلت میں کمی اور طلب میں ممکنہ نرمی قیمتوں میں مزید بڑے اضافے کے امکانات کو محدود کرسکتی ہے۔