ایران جنگ کے وسط مدتی انتخابات پر اثرات سے ریپبلکنز پریشان: امریکہ

Calender Icon پیر 31 اگست 2026

ریپبلکن پارٹی کے اندر یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ انتخابی بوجھ بن کر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں پارٹی کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی قیمتوں اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے متعلق دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے بلومبرگ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ریپبلکن حکمتِ عملی سازوں کا کہنا ہے کہ جنگ کا جاری رہنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت کے لیے ایک مشکل انتخابی امتحان بن گیا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ ریپبلکن ووٹرز کے ایک حصے نے گزشتہ انتخابات میں ٹرمپ کی حمایت مہنگائی کم کرنے اور بیرونِ ملک طویل جنگوں میں امریکہ کی مداخلت سے گریز کے وعدوں کی بنیاد پر کی تھی۔

امریکی صدر نے تنازع کے آغاز میں توقع ظاہر کی تھی کہ فوجی کارروائیاں تقریباً چار یا پانچ ہفتے جاری رہیں گی، تاہم یہ محاذ آرائی اب چھ ماہ تک پہنچ چکی ہے۔

اس صورتِ حال نے ریپبلکن حلقوں میں جنگ کے مقاصد اور اس کی کامیابی کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں، خصوصاً یہ کہ نومبر کے انتخابات سے قبل حکومت ووٹرز کے سامنے جنگ کے ایسے کون سے نتائج پیش کر سکے گی جنہیں کامیابی قرار دیا جا سکے۔

انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ ریپبلکنز کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس اور انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی مقبولیت میں مسلسل کمی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اپوزیشن کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی پوزیشن دوبارہ حاصل کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔

ایسی صورت میں ٹرمپ کے لیے اپنی دوسری مدت کے دوسرے نصف میں ایجنڈے پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔

سروے کے اعداد و شمار بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی جنگ کی حمایت کم ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریپبلکنز میں فوجی کارروائیوں کی حمایت مارچ میں 77 فیصد سے کم ہو کر 69 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت کی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔انتخابی دوڑ کے اشارے بھی بعض ایسی ریاستوں میں تبدیلی دکھا رہے ہیں، جو پہلے ریپبلکنز کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھی جاتی تھیں۔

20 اگست کو ’’کُک پولیٹیکل رپورٹ‘‘ نے ٹیکساس اور آئیوا میں سینیٹ کی نشستوں کے مقابلے کو برابر کی مسابقت (Toss-up) قرار دے دیا۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ان ریاستوں میں مقابلہ زیادہ سخت ہو سکتا ہے، جنہیں ریپبلکنز کو اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے جیتنا ضروری ہے۔

کچھ ریپبلکن عہدیدار اور حکمتِ عملی ساز خاص طور پر اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ جنگ کا اثر معاشی مسئلہ بن سکتا ہے۔ لڑائی جاری رہنے کے ساتھ پٹرول کی قیمتیں اور زندگی کے اخراجات انتخابی بحث میں ایران سے متعلق فوجی اور سیاسی پیش رفت کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔

اس سے خدشہ ہے کہ ووٹر حکومت کی کارکردگی کو ایران کی جنگ سے زیادہ اپنی روزمرہ زندگی پر پڑنے والے معاشی اثرات کی بنیاد پر جانچیں گے۔

ان خدشات کے باوجود ریپبلکن پارٹی کی قیادت ٹرمپ کا کھلے عام مقابلہ کرنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ پارٹی کے اندر انہیں اب بھی ایک مضبوط انتخابی حمایت حاصل ہے۔

دوسری جانب ریپبلکنز کو ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا: صدر کی پالیسیوں کا دفاع بھی کرنا ہے اور وسط مدتی انتخابات میں اپنے امیدواروں کی سیاسی خودمختاری بھی برقرار رکھنی ہے، خصوصاً ایسی ریاستوں میں جہاں نتائج معمولی فرق سے طے ہو سکتے ہیں۔

ریپبلکنز کے لیے وقت کا عنصر فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر انتظامیہ نومبر سے قبل جنگ ختم کرنے یا اس کے واضح نتائج سامنے لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے انتخابی اثرات کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر جنگ کسی واضح انجام کے بغیر جاری رہی اور معاشی دباؤ بھی برقرار رہا تو ایران کا تنازع خارجہ پالیسی کے معاملے سے بڑھ کر امریکی ووٹر کے انتخابی فیصلے کا مرکزی مسئلہ بن سکتا ہے۔

مزید پرھیں:مکہ دفاعی معاہدہ: استنبول میں پاکستان، سعودیہ، ترک قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی

یوں ریپبلکن پارٹی ایک مشکل صورتِ حال سے دوچار ہے: اسے ٹرمپ کے حامیوں کی حمایت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جنگ اور مہنگائی سے پریشان ووٹرز کا اعتماد بھی بحال کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وسط مدتی انتخابات ایران کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر ایک عوامی ریفرنڈم کی شکل اختیار کر لیں۔