28 سال بعد نیویارک کی جھیل میں گم ہونے والی انگوٹھی اصل مالکن کو واپس مل گئی

Calender Icon منگل 1 ستمبر 2026

نیویارک،دھاتی اشیاء کی تلاش کے شوقین افراد کے ہاتھوں 28 سال قبل گم ہو جانے والی ایک یادگار انگوٹھی کی اس کے اصل مالک تک واپسی نے انسانی ہمدردی اور بے غرض خدمت کی ایک دل چھو لینے والی مثال قائم کر دی ہے۔ نیویارک کے ایک دیہی علاقے میں پیش آنے والا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح شوق، جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا مثبت استعمال مل کر دہائیوں پرانی کھوئی ہوئی یادوں کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔

یہ واقعہ امریکی ریاست نیویارک کی مشہور گریٹ ساکانڈاگا جھیل (Great Sacandaga Lake) پر پیش آیا، جہاں مائیکل سیگل (Michael Siegle) اور ڈائلن لاپورٹ (Dylan LaPort) نامی دو مقامی شہری اپنے میٹل ڈیٹیکٹرز کے ساتھ پانی کے کنارے اور چٹانوں کے درمیان پرانی اشیاء اور چھپے ہوئے خزانوں کی تلاش میں مصروف تھے۔ جھیل کے ایک سنسان اور پتھریلے حصے میں تلاش کے دوران اچانک ان کی مشین نے دھات کی موجودگی کا ایک مخصوص سگنل دیا۔ جب دونوں افراد نے سگنل کی نشاندہی پر وہاں موجود ایک بڑے پتھر کو الٹا، تو اس کے نیچے ریت اور مٹی میں دبی ہوئی ایک انگوٹھی چمکتی ہوئی دکھائی دی۔

انگوٹھی کو صاف کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ریڈ کریک ہائی اسکول (Red Creek High School) کی روایتی کلاس رنگ (Class Ring) ہے، جس پر گریجویشن کا سال 1988 واضح طور پر کندہ تھا۔ اس نایاب اور یادگار انگوٹھی کو دیکھ کر دونوں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے اپنے پاس رکھنے کے بجائے اس کے اصل مالک تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

مالک کی تلاش کا آغاز ڈائلن لاپورٹ نے سوشل میڈیا سے کیا۔ انہوں نے انگوٹھی کی واضح تصاویر لے کر فیس بک پر ایک پوسٹ شیئر کی اور مقامی گروپس سے مدد مانگی تاکہ شاید کوئی اسے پہچان سکے۔ کچھ وقت گزرنے کے باوجود جب سوشل میڈیا سے کوئی ٹھوس معلومات یا سراغ نہ مل سکا، تو دونوں افراد نے ہمت نہ ہاری اور براہِ راست ریڈ کریک ہائی اسکول انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسکول کے دفتر میں جب ان کی بات ایک سیکریٹری سے ہوئی، تو کہانی میں ایک خوشگوار موڑ آیا۔ اسکول کے پرانے ریکارڈر اور 1988 کے گریجویشن بیچ کی معلومات چیک کرنے پر سیکریٹری نے بتایا کہ یہ انگوٹھی ان کی اپنی سابقہ کلاس فیلوکم راسبیک (Kim Rasbeck) کی ہے۔ یوں دہائیوں پرانی گمشدہ امانت کے مالک کا حتمی سراغ مل گیا۔

جب کم راسبیک سے رابطہ کیا گیا تو وہ اس خبر پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 28 سال پہلے، جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جھیل پر ایک گرمیوں کے دن تفریح کے لیے گئی تھیں، تو پانی میں کھیلتی ہوئی ان کی یہ یادگار انگوٹھی ہاتھ سے ہسل کر گہرے پانی میں گر گئی تھی۔ انہوں نے اس وقت انگوٹھی کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن جھیل کے پانی اور پتھروں کی وجہ سے وہ ناکام رہیں اور بالآخر انہوں نے اسے ہمیشہ کے لیے کھوئی ہوئی امانت سمجھ کر بھلا دیا۔

کم راسبیک نے خوشی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے دونوں افراد سے کہا کہ وہ انگوٹھی بذریعہ ڈاک واپس بھیجنے کا تمام تر خرچ اور آن لائن پیمنٹ سروس ‘وینمو’ (Venmo) کے ذریعے ان کا انعام یا معاوضہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم مائیکل سیگل اور ڈائلن لاپورٹ نے کسی بھی قسم کی رقم یا معاوضہ لینے سے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد پیسے کمانا نہیں بلکہ ایک پرانی یاد کو اس کے اصل حقدار تک پہنچانا ہے۔

ان دونوں سرفروش تلاش کنندگان کا کہنا تھا کہ جھیل کے ساحلوں پر میٹل ڈیٹیکٹر کے ساتھ گھومنا اور کھوئی ہوئی چیزیں ڈھونڈنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب کوئی کھوئی ہوئی اور قیمتی یادگار شے اپنے مالک تک پہنچتی ہے اور ان کے چہرے پر جو خوشی دکھائی دیتی ہے، وہی ان کا اصل انعام ہے۔ ان کے بقول انگوٹھیاں ڈھونڈ کر ان کے مالکان کو واپس کرنا ان کا اصل مقصد ہے، اور اس تلاش کے دوران ملنے والی دیگر عام اشیاء ان کے لیے صرف ایک ثانوی حیثیت یا بونس کی مانند ہوتی ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی خوبصورت یاد دہانی ہے کہ دنیا میں اب بھی بے لوث اور نیک نیت لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی خوشی کی خاطر اپنا وقت اور وسائل صرف کرتے ہیں۔ 28 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد ایک یادگار انگوٹھی کا یوں محفوظ حالت میں اپنے اصل مالک تک پہنچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔