عالمی مارکیٹ میں بدھ کے روز سونے کی قیمت(Gold Rates) تین ہفتوں سے زائد کی کم ترین سطح پر آگئی، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، افراط زر کے خدشات اور شرح سود میں اضافے کے امکانات ہیں۔ دوسری جانب سرمایہ کار امریکی روزگار کے اہم اعدادوشمار کے منتظر ہیں، جن سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مالیاتی پالیسی کے حوالے سے مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,304.01 ڈالر فی اونس رہی، جو 7 اگست کے بعد سونے کی کم ترین قیمت ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونا مسلسل چوتھے کاروباری سیشن میں بھی کمی کی جانب گامزن رہا، جبکہ قیمت 200 روزہ موونگ ایوریج سے بھی نیچے آگئی، جسے مارکیٹ میں ایک اہم تکنیکی سطح تصور کیا جاتا ہے۔
امریکی گولڈ فیوچرز کی دسمبر ڈیلیوری کی قیمت بھی ایک فیصد کمی کے بعد 4,350.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ دوسری جانب امریکی ڈالر کی قدر نسبتاً مستحکم رہی، جس کے باعث دیگر کرنسیوں میں خریداری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت والے سونے سمیت دیگر قیمتی دھاتوں کی خریداری مہنگی ہوگئی۔
عالمی مارکیٹ میں سونے پر دباؤ کی ایک اہم وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی ہے۔ امریکا کی جانب سے منگل کو ایران پر فضائی حملوں اور اس کے بعد ایرانی جوابی کارروائی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں کی شدید ترین کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔
کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل تیسرے کاروباری سیشن میں بڑھیں، جبکہ امریکی ٹریژری ییلڈز میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ عموماً بلند ییلڈز اور شرح سود کے امکانات میں اضافہ سونے کے لیے منفی تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ سونا باقاعدہ منافع یا سود فراہم نہیں کرتا۔
مزیدپڑھیں:چکن کے زیادہ پیس کھانے پر دوست نے دوست کی جان لے لی
ڈی ایچ ایف کیپٹل ایس اے (DHF Capital S.A.) کے چیف ایگزیکٹو اور اثاثہ مینیجر باس کوئجمن کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراط زر کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگا خام تیل مالیاتی پالیسی میں سختی اور ییلڈز میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمت پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
مارکیٹ میں رواں ماہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے 67 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کار اب امریکی معیشت کی سمت اور روزگار کی صورتحال جانچنے کے لیے اہم اعدادوشمار کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکا میں بدھ کو اے ڈی پی روزگار رپورٹ جاری ہونے کی توقع ہے، جبکہ جمعہ کو نان فارم پے رولز کے اہم اعدادوشمار سامنے آئیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر روزگار کے اعدادوشمار کمزور آتے ہیں تو اس سے سونے کی قیمت پر موجود دباؤ کم ہوسکتا ہے، کیونکہ کمزور معاشی اعدادوشمار شرح سود میں نرمی کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔
اس کے برعکس مضبوط روزگار رپورٹ یا امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے سخت گیر مالیاتی پالیسی جاری رکھنے کے اشارے سونے کی قیمت میں مزید کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار امریکی روزگار کے اعدادوشمار کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔
دوسری قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت ایک فیصد کمی کے بعد 63.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم ایک فیصد کمی کے بعد 1,722.23 ڈالر فی اونس جبکہ پیلیڈیم کی قیمت 1.4 فیصد کمی کے بعد 1,292.21 ڈالر فی اونس ہوگئی۔













بدھ 2 ستمبر 2026 

