ٹیکسلا میں ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، عدالت نے ایک شریک ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی، جنہیں عائشہ غلامنا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے قتل کیس میں ٹیکسلا کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے ایک ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔
ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا محمد اعظم نے ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے اور کیس کا دستیاب ریکارڈ دیکھنے کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی نے عدالت کے سامنے کیس کے مختلف قانونی اور تفتیشی پہلوؤں پر دلائل دیے۔ دفاعی وکیل نے ملزم کے خلاف تفتیش اور اس کی نامزدگی کی بنیادوں کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔
عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرلی۔
عدالتی حکم میں واضح کیا گیا کہ ضمانت کی منظوری اس مرحلے پر ملزم کے ضمانت کے حق سے متعلق ہے، اسے قتل کے الزام سے بری قرار دینا یا مقدمے کے میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جائے گا۔
پولیس کے مطابق ضمانت حاصل کرنے والا ملزم ہری پور کا رہائشی اور مقتولہ کے والد کا چچا ہے۔ پولیس نے اسے مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے شخص کے طور پر نامزد کیا تھا۔
معروف سوشل میڈیا کانٹینٹ کری ایٹر شمسو بی بی کو 14 اگست 2026 کو ٹیکسلا کے علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302، 324، 109، 201، 311 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کی تھی۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی ابتدائی ایف آئی آر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی تھی، جبکہ مقتولہ کے والد کو مقدمے کا مدعی بنایا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس نے قتل کیس میں پانچ مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ گرفتار افراد میں مقتولہ کے والد، بھائی، کزن، والد کے چچا اور کزن کا بیٹا شامل تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کے دوران 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا، جبکہ انسانی ذرائع اور دیگر تفتیشی ذرائع سے بھی مدد حاصل کی گئی۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے قریبی رشتہ داروں کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا اور قتل کے مبینہ محرکات اور دیگر ملزمان کے ممکنہ کردار سے متعلق معلومات حاصل کی گئیں۔
ابتدائی تفتیش میں پولیس نے واقعے کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل قرار دیا تھا، تاہم قتل سے متعلق تمام الزامات تاحال عدالتی کارروائی کے ذریعے ثابت ہونا باقی ہیں۔
قانون کے مطابق کسی بھی ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک کسی مجاز عدالت کی جانب سے اسے جرم کا مرتکب قرار نہ دیا جائے۔
کیس میں آئندہ مزید سماعتیں ہوں گی، جن کے دوران استغاثہ کے شواہد، دفاع کے مؤقف اور ملزمان کے مبینہ کردار کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائے گا۔













ہفتہ 12 ستمبر 2026 

