اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین سے 30 ارب یوآن کی کرنسی سوآپ لائن میں توسیع کی درخواست کرے گا، چین سے موجودہ 30 ارب یوآن کی سوآپ سہولت مکمل استعمال ہو چکی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ چین سے سوآپ لائن میں کتنی اضافی رقم مانگی جائے گی، فیصلہ بعد میں ہوگا، پاکستان نےامریکا سے10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کر رکھی ہے، امریکا سے 10 ارب ڈالر کی سہولت پر دو ماہ میں جواب ملنے کی توقع ہے، پاکستان کی چین اور امریکا دونوں سے معاشی تعاون کی بات چیت جاری ہے، امریکا کا ایگزیم بینک پی آئی اے کے بوئنگ طیاروں کی خریداری میں مالی مدد کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ڈی ایف سی پاکستان کے 5 ارب ڈالر کے آئل ریفائنری اپ گریڈ پروگرام میں مدد کرسکتا ہے، طویل عرصےتک تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے،مشرق وسطیٰ تنازع نومبر یا دسمبر تک جاری رہا تو پاکستان کے4 فیصد معاشی ترقی کےہدف کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
، پاکستان کے پاس ستمبر تک ضرورت پوری کرنے کے لیے تیل کے مناسب ذخائر موجود ہیں، اکتوبر کے لیے بھی پاکستان تیل کی ضروریات پوری کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ نومبر کے لیے تیل کی سپلائی کی منصوبہ بندی شروع کردی گئی ہے، پاکستان کو فی الحال آئی ایم ایف سے مزید قرض یا ہنگامی مالی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔
مزید پڑھیں:کرکٹرمحمد رضوان نے این سی سی آئی اے کے سوالنامے کا جواب دے دیا
آئی ایم ایف کا مشن آئندہ ہفتے پاکستان کے 7 ارب ڈالر پروگرام کے چوتھے جائزے کے لیے آئے گا، آئی ایم ایف مشن ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فسیلیٹی کے تیسرے جائزے کا بھی آغاز کرے گا، پاکستان مقداری اہداف پر اچھی پوزیشن میں اور زیادہ تر ساختی اہداف پر عملدرآمد کرچکا ہے۔













جمعرات 17 ستمبر 2026 

