لاہور: انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ڈاکٹر عثمان انور نے نیوز کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پنجاب پولیس صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سرگرم عمل میں ہے اور جرائم کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملیوں سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
آئی جی ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ پنجاب میں پولیس نظام میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں 70 فیصد جرائم کم ہو چکے ہیں، جو پولیس کی پرعزم کارکردگی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس نے متحرک گینگز کی گرفتاری عمل میں لائی ہے اور شوٹر مافیا، گینگ مافیا کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح، صوبے سے ڈالہ کلچر کا خاتمہ بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ آئی جی نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا، جبکہ صرف بارڈرز چیک پوسٹس کے لیے ڈیڑھ ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عثمان انور نے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ڈرون سسٹم کو متعارف کروایا گیا ہے، جو جرائم کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانفرنس میں اضافی انسپکٹر جنرل (سی سی ڈی)، سہیل ظفر چٹھہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سی سی ڈی پنجاب پولیس کا حصہ ہے اور صوبے بھر میں جرائم پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی سی ڈی سنگین جرائم کی روک تھام میں پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب میں قتل کے جرائم کی شرح میں 49 فیصد کمی ہوئی ہے۔
یہ اعلانات جرائم کے خلاف پنجاب پولیس کی جارحانہ حکمت عملی کی کامیابی کو اجاگر کرتے ہیں اور صوبے میں عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کی پختہ ارادے کی عکاسی کرتے ہیں۔












جمعہ 24 اکتوبر 2025 