پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی میزبانی میں گورنر پنجاب کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں دونوں صوبوں کے درمیان تعاون اور قومی سیاست کے اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ گورنر پنجاب نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان مضبوط تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہے۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ “فیصل کریم کنڈی کی مہمان نوازی کا شکر گزار ہوں”، اور مزید بتایا کہ “پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی احترام پر تعلقات قائم ہیں”۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کو متحرک کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے مابین اتحاد ہوا، معاملات کو اچھے طریقے سے چلانے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں”۔
اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ “اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، سسٹم کو چلانا ہی بہتر ہے۔ انہوں نے اتحاد کی نوعیت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ “پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد محبت یا شوق نہیں مجبوری کا ہے، دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں مگر چیزیں بہتر ہوئی ہیں”۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ “میرے خیال میں وزیراعلیٰ کے پی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ہونی چاہیے”۔ وزیراعلیٰ اور بانی پی ٹی آئی کو ملاقات کا موقع دینا چاہیے، اس سے فرق نہیں پڑتا، وزیراعلیٰ کے پی اور بانی پی ٹی آئی کی ملاقات سے ملک کا کوئی نقصان نہیں ہوگا”۔
گورنر پنجاب نے پیپلز پارٹی کی جمہوریت پسند پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “پیپلز پارٹی کبھی غیر جمہوری چیزوں کو سپورٹ نہیں کرتی”۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مشورہ دیا کہ “خیبر پختونخوا حکومت کو مشورہ دیتا ہوں وفاق سے ورکنگ ریلیشن شپ بہتر کریں، اگر سسٹم نہیں چلے گا تو ملک کا نقصان ہوگا، کوشش ہوگی پہلے کی طرح معاملات چلتے رہیں”۔
گورنر پنجاب سلیم حیدر نے صوبائی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “بہت ساری چیزیں خیبر پختونخوا سے پنجاب جاتی ہیں، آٹا کے پی کی ضرورت ہے اس پر وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کروں گا”۔












جمعہ 24 اکتوبر 2025 