اسلام آباد : وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایرانی وزیر برائے روڈز اینڈ اربن ڈویلپمنٹ فرزانہ صادق سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات اسلام آباد میں جاری ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کے دوسرے روز ہوئی۔
ملاقات میں دونوں وزراء نے دوطرفہ ریلوے تعاون، فریٹ آپریشنز، تجارتی روابط اور ریجنل کنیکٹیویٹی پر تفصیلی گفتگو کی۔ وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے ایرانی وفد کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
ایرانی وزیر فرزانہ صادق نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک ایران کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جڑ رہے ہیں اور پاکستان و ایران مل کر چین کو یورپ سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک نے ریلوے شعبے میں مشترکہ ایکشن پلان پر اتفاق کیا۔ وزیرِ ریلوے نے بتایا کہ پاکستان کا ریلوے نظام 1861 میں قائم ہوا تھا اور اس کی اپ گریڈیشن کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہڑی تا نوکنڈی 884 کلومیٹر سیکشن پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔
ملاقات میں اسلام آباد–تہران–استنبول (آئی ٹی آئی) فریٹ ٹرین کو دسمبر 2025 میں دوبارہ چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ چابہار اور گوادر بندرگاہوں کو ریل یا سڑک کے ذریعے جوڑنے پر بھی بات چیت کی گئی۔
دونوں ممالک نے ریلوے انفراسٹرکچر اور آپریشنز میں اشتراک بڑھانے، اور کمرشل سرگرمیوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ کوئٹہ تا تافتان سیکشن کی اپ گریڈیشن آئندہ سال شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیرِ ریلوے نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے ریلوے نظام 1917 سے منسلک ہیں، اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ریلوے اصلاحات کا نیا باب شروع کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پورٹ سے فریٹ ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ملاقات میں فریم ورک آف کوآپریشن کے تحت ریلوے تعاون کو وسعت دینے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے فروغ کے لیے کوآرڈینیشن میکنزم پر بھی اتفاق ہوا۔
وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ منصوبے خطے میں معاشی ترقی اور علاقائی روابط کی نئی راہیں ہموار کریں گے۔












جمعہ 24 اکتوبر 2025 