ایف آئی اے کی ایک ہی واقعے پر دوبارہ انکوائری غیر قانونی قرار

Calender Icon ہفتہ 26 ستمبر 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ(Islamabad Highcourt) نے ایف آئی اے کو ایک ہی واقعے اور الزامات پر دوبارہ انکوائری سے روک دیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے میر اویس کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ پرانے الزامات پر نئی انکوائری نہیں کی جاسکتی۔

فیصلے کے مطابق ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی اسی واقعے اور الزامات کی انکوائری مکمل کرکے معاملہ بند کرچکی تھی۔ پہلی انکوائری ریکارڈ کی بنیاد پر مکمل کی گئی اور اسے باقاعدہ طور پر بند کردیا گیا تھا۔

وکیل کے مطابق پہلی انکوائری بند ہونے کے باوجود کافی عرصے بعد ایف آئی اے اسلام آباد نے انہی الزامات پر دوبارہ کارروائی شروع کردی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ موجودہ انکوائری کسی نئے یا الگ واقعے سے متعلق نہیں بلکہ اسی واقعے اور انہی الزامات کی بنیاد پر ہے جن کا پہلے جائزہ لیا جاچکا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ محض دفتر یا تفتیشی افسر کی تبدیلی سے انہی الزامات پر دوبارہ انکوائری شروع نہیں کی جاسکتی۔ ایک ہی حقائق اور ایک ہی الزام کی بنیاد پر دوبارہ انکوائری کا عمل آئینی تحفظ کے منافی ہے۔

مزیدپڑھیں:30 ستمبر تک امریکی افواج عراق سے انخلاء کرلیں گی، وزیر اعظم

عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے ایبٹ آباد کی جانب سے پہلے مکمل اور بند کی گئی انکوائری کو دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایک ہی معاملے پر دوبارہ کارروائی کرنا ملزم کو ڈبل جیپرڈی یعنی ایک ہی معاملے میں دوبارہ کارروائی کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے شروع کی گئی بعد کی انکوائری اور سیکشن 160 ضابطہ فوجداری کے تحت جاری نوٹس کو قانونی اختیار سے عاری قرار دے دیا۔ عدالت نے ایف آئی اے اسلام آباد کو اسی حقائق کی بنیاد پر مزید انکوائری آگے بڑھانے سے روک دیا۔

فیصلے کے مطابق میر اویس کے خلاف اسی واقعے اور الزامات پر شروع کی گئی بعد کی انکوائری کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ میر اویس نے ایف آئی اے کی دوبارہ انکوائری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس حوالے سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف آئی اے ایبٹ آباد پہلے ہی معاملے کی مکمل انکوائری کرکے اسے بند کرچکی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے دوبارہ انکوائری کے خلاف درخواست نمٹا دی۔