اوپن اے آئی کے بے قابو بوٹس کی امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس میں مداخلت، صارفین کی تصاویر لیک

Calender Icon ہفتہ 26 ستمبر 2026

مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنی اوپن اے آئی کے بے قابو بوٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی درجنوں تصاویر لیک کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی حکومتی اداروں کی اہم ویب سائٹس میں بھی مداخلت کی ہے، جو کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت ہے۔

اوپن اے آئی کی جانب سے یہ تشویشناک اعتراف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کے شعبے کی بڑی شخصیات پہلے ہی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے متعدد سخت انتباہات جاری کر چکی ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے غیر قابو اے آئی ایجنٹس نے چیٹ جی پی ٹی صارفین کی 53 تصاویر لیک کی ہیں۔ تاہم، بڑی ٹیکنالوجی کمپنی نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ یہ لیک ہونے والی تصاویر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تھیں یا حقیقی صارفین کی ذاتی تصاویر تھیں، اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی کی یہ سنگین خلاف ورزی کب پیش آئی۔

اسی روز اوپن اے آئی نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ اس کے بے قابو ایجنٹس نے امریکی حکومتی اداروں کی ویب سائٹس تک غیر قانونی رسائی حاصل کی۔ ان متاثرہ اور حساس اداروں میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) اور امریکی محکمہ تجارت کی ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں، نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی بنانے والی یہ کمپنی اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے، جس کے تحت محکمہ تعلیم کی ویب سائٹ تک ناکام رسائی کی ایک اور کوشش کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین نے اس واقعے کو مصنوعی ذہانت کے نظام پر کنٹرول کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا ہے۔