صوبے میں دہشتگردی اور دلخراش حادثات کا طوفان، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی دھرنوں اور سیاست میں مصروف؛ عوام بے یارومددگار

Calender Icon ہفتہ 26 ستمبر 2026

خیبر پختونخوا میں بدترین دہشتگردی اور المناک حادثات نے تباہی مچا رکھی ہے جبکہ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے محض سیاسی محاذ آرائی اور دھرنوں کی سیاست میں مصروف ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت خوفناک سیکیورٹی بحران اور انتظامی ناکارہ پن کی لپیٹ میں ہے، مگر صوبے کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ترجیحات میں عوامی فلاح و بہبود یا صوبے کا امن دور دور تک شامل نہیں۔ ڈی آئی خان کے علاقے درازندہ میں ڈی آئی خان-کوئٹہ روڈ پر واقع انسدادِ اسمگلنگ ’امن میلہ پولیس چیک پوسٹ‘ پر بارود سے بھری گاڑی کے گھناؤنے خودکش دھماکے میں 6 پولیس اہلکاروں، 2 کسٹمز اہلکاروں، 2 خواتین اور ایک 2 سالہ معصوم بچے سمیت 11 افراد جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ 30 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔ سفاکیت کا عالم یہ تھا کہ اس دلخراش دھماکے کے بعد زخمیوں کو منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو بھی درندہ صفت دہشتگردوں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو بہادر امدادی کارکن بھی شہید اور دو زخمی ہو گئے۔ دہشتگردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے اس گٹھ جوڑ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔

دوسری طرف، پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں بورہ پستہ ونی کے مقام پر کان بیٹھنے کے افسوسناک حادثے میں ملبے تلے دب کر تین محنت کش افراد جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے 4 ایمبولینسز، دو ڈیزاسٹر وہیکلز اور 20 سے زائد اہلکاروں کے ساتھ طویل اور دشوار گزار سرچ آپریشن کے بعد ان کی لاشیں باہر نکالیں۔

ایک طرف ڈی آئی خان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور کان کے حادثات میں غریب عوام لقمہ اجل بن رہے ہیں، تو دوسری طرف نااہل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی پوری ٹیم صوبے کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے دن رات صرف دھرنوں، احتجاجی مظاہروں اور اپنی سیاست کو چمکانے میں لگی ہوئی ہے۔ عوام کی زندگیوں اور املاک کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہے، اور صوبائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے باسیوں کا جینا محال ہو چکا ہے۔