ملائیشیا(Malaysia) کے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے مہاتیر محمد کی اہلیہ اور صحت عامہ کے شعبے میں سرگرم رہنے والی سیتی حسماہ محمد علی 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
مہاتیر محمد کے دفتر کے مطابق سیتی حسماہ کا انتقال پیر کے روز ہوا۔ ان کی نماز جنازہ آج ہی ادا کی جائے گی، جبکہ انہیں ملائیشیا کے انتظامی دارالحکومت پوتراجایا کے ایک مسلم قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے سیتی حسماہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔
Saya, Azizah dan keluarga berdukacita menerima khabar pemergian Almarhumah Tun Dr Siti Hasmah Mohamad Ali pagi ini.
Kami mengenali Almarhumah sebagai Kak Hasmah, seorang yang lembut tutur katanya, namun tabah dan kuat jiwanya, malah sentiasa mengambil berat tentang orang di… pic.twitter.com/iGktqwbACj
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) September 28, 2026
انور ابراہیم نے اپنے بیان میں کہاکہ قوم سیتی حسماہ کی ماں جیسی شخصیت کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کی خدمات اور کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔
سیتی حسماہ کے شوہر مہاتیر محمد کی عمر 101 برس ہے اور انہیں جدید ملائیشیا کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ دو مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہے اور مجموعی طور پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس منصب پر فائز رہے۔
مہاتیر محمد نے پہلی مرتبہ 1981 سے 2003 تک وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس دور میں ملائیشیا نے تیز رفتار صنعتی ترقی کی اور جنوب مشرقی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہوا۔
مزیدپڑھیں:بھارت: تامل ناڈو کے سرکاری اسپتالوں میں پیدا ہونیوالے بچوں میں مفت سونے کی انگوٹھیاں تقسیم
2018 میں مہاتیر محمد نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ اقتدار میں واپسی کی اور اس وقت کے وزیراعظم نجیب رزاق کو شکست دینے والے اتحاد کی قیادت کی۔ نجیب رزاق اربوں ڈالر کے مالی اسکینڈل ’ون ایم ڈی بی‘ میں ملوث تھے۔ تاہم مہاتیر محمد کی دوسری حکومت دو سال سے بھی کم عرصے میں ان کے اتحادی اتحاد میں اندرونی اختلافات کے باعث ختم ہوگئی۔
مہاتیر محمد اور سیتی حسماہ کی ملاقات 1940 کی دہائی کے اواخر میں سنگاپور کے میڈیکل اسکول میں ہوئی تھی، جہاں دونوں طب کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ دونوں نے رواں سال اگست میں شادی کی 70ویں سالگرہ منائی تھی۔
اس جوڑے کے سات بچے ہیں، جن میں کاروباری شخصیت مخزانی مہاتیر، سماجی کارکن مرینا مہاتیر اور سیاست دان مختریز مہاتیر شامل ہیں۔
سیتی حسماہ اپنی ذات میں بھی ملائیشیا کی ایک مقبول شخصیت تھیں۔ وہ سادہ مزاجی اور خوش مزاجی کے لیے جانی جاتی تھیں، جو ان کے شوہر کے دوٹوک اور سخت اندازِ بیان سے مختلف تھی۔
وہ اپنے آبائی صوبے کیدہ میں طبی افسر مقرر ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ بعد میں سیاسی زندگی میں مہاتیر محمد کی اہلیہ کی حیثیت سے انہوں نے زچہ و بچہ کی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر سماجی شعبوں میں کام کیا۔
مہاتیر محمد نے ایک مرتبہ سیتی حسماہ کو اپنی کامیابی کا بنیادی سہارا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ انہوں نے اس دور میں یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کی جب نسلی طور پر ملائی خواتین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا عام نہیں تھا۔
مہاتیر محمد نے 2018 میں سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سیتی حسماہ کی یہ جدوجہد ان کے مضبوط کردار کی عکاسی کرتی ہے۔













منگل 29 ستمبر 2026 

