افغانستان سے دہشتگردی بنیادی مسئلہ، سفارت کاری ترقی کا واحد راستہ ہے، مشاہد حسین

Calender Icon جمعرات 1 اکتوبر 2026

اسلام آباد: سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی محض پاکستان اور افغانستان کا دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی ممالک کو مشترکہ سفارتی اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ جنگ اور محاذ آرائی کے بجائے علاقائی سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے، پاکستان اور افغانستان مزید تنازعات اور عدم استحکام کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

اسلام آباد میں انٹرنیشنل پارلیمنٹرینز کانگریس (آئی پی سی) کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس ’’افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب سفر‘‘ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا ہے اور وہاں عدم استحکام کے اثرات پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان، ایران، چین، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں جانب نے تسلیم کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی ہے، جو پاکستان کے علاوہ دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم اور اس کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے (RATS) کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ کابل کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ حال ہی میں کابل کا دورہ کرنے والے پاکستانی صحافیوں کے مطابق افغان حکومت دہشت گردی کے مسئلے کو تسلیم کرتی ہے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اس کا حل تلاش کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات کے باوجود افغان عوام کے ساتھ پاکستان کے تاریخی، تجارتی، تعلیمی اور عوامی روابط متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آیا ہے، اس لیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونے دینا چاہیے۔ افغان تاجروں، طلبہ، کاروباری افراد اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے روابط اور آمدورفت کے مواقع برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے خبردار کیا کہ خطے کو ایک اور طویل جنگ اور تنازع میں دھکیلنے کے بجائے ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے افغانستان میں امریکی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ براؤن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق امریکہ نے 2001 سے 2021 کے دوران افغانستان میں تقریباً 2.2 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جبکہ انخلا کے وقت اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان بھی پیچھے چھوڑا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان اور خطے کو جغرافیائی سیاسی کشمکش کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان اور ایران کے عوام طویل عرصے سے جیوپولیٹکس کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان مسئلے کا حصہ بننے کے بجائے اس کے حل میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے علاقائی ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون اور سفارت کاری کے ذریعے امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات کریں۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن پاکستان کے علاقائی رابطہ کاری کے وژن کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان تجارت، توانائی، بندرگاہوں، پائپ لائنز، سڑکوں اور ریلوے کے ذریعے وسطی ایشیا، ایران، ترکیہ اور افغانستان سے روابط بڑھانا چاہتا ہے، جبکہ سی پیک اس وسیع تر علاقائی اقتصادی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم افغانستان کی موجودہ صورتحال ان منصوبوں کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت، اپوزیشن اہم ملاقات، بیرسٹر گوہر نے دعوت قبول کرلی

انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے منتظمین، بالخصوص آئی پی سی کی سیکریٹری جنرل سینیٹر ستارہ ایاز کو سراہا۔ دو روزہ کانفرنس میں پاکستان، چین، روس، تاجکستان اور افغان ڈائسپورا سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرینز، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم اور دیگر شرکاء نے افغانستان کی سیکیورٹی، پاک افغان تعلقات، علاقائی استحکام اور قیام امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔