خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (PTI)کے اندر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف موجود فارورڈ بلاک نے واضح کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی صورت میں سہیل آفریدی کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
تاہم، عمران خان کی جانب سے براہِ راست ہدایت ملنے کی صورت میں فارورڈ بلاک اپنے موقف پر نظرثانی کرتے ہوئے سہیل آفریدی کی حمایت کرے گا۔
29 ستمبر کو پشاور میں منعقدہ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک کے 20 سے زائد اراکین کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ممکنہ عدم اعتماد کی تحریک، ان کی نااہلی کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب اور پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمتِ عملی سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں شریک 2 اراکین اسمبلی کے مطابق اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اگر حکومتی یا اپوزیشن اراکین کی جانب سے سہیل آفریدی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے تو فارورڈ بلاک کے اراکین وزیراعلیٰ کا ساتھ نہیں دیں گے۔
تاہم، اراکین نے یہ بھی طے کیا کہ اگر عمران خان کی جانب سے سہیل آفریدی کی حمایت کی ہدایت جاری کی جاتی ہے تو فارورڈ بلاک اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا۔
نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب پر بھی فارورڈ بلاک کا الگ مؤقف
اجلاس میں سہیل آفریدی کی نااہلی کی صورت میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے طریقۂ کار پر بھی اہم فیصلہ کیا گیا۔
فارورڈ بلاک کے اراکین کے مطابق انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب پارلیمانی پارٹی کرے گی اور اس عمل میں عمران خان کی بہنوں، پارٹی کے مرکزی قائدین، مراد سعید یا کسی دوسرے رہنما کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کو فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں ہوگی۔
اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں قومی اسمبلی کے اراکین کو شرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی اور فیصلہ صرف خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کریں گے۔
فارورڈ بلاک تقریباً 3 ماہ سے موجود
سہیل آفریدی کے خلاف پی ٹی آئی کے 20 سے زائد اراکین پر مشتمل یہ فارورڈ بلاک تقریباً 3 ماہ قبل سامنے آیا تھا، جس میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی سجاد بارکوال، مشتاق غنی، فضل الٰہی، ادریس خٹک، قاسم علی شاہ اور احتشام خان سمیت دیگر اراکین شامل ہیں۔
فارورڈ بلاک کے اراکین ماضی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اور سنجیدہ سیاسی کوششیں نہ کرنے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
تاہم، موجودہ صورتحال میں فارورڈ بلاک کا مؤقف صرف وزیراعلیٰ کی حمایت یا مخالفت تک محدود نہیں رہا بلکہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے طریقۂ کار پر بھی وہ پارٹی کے مرکزی ڈھانچے سے مختلف مؤقف رکھتا ہے۔
4 اکتوبر کے احتجاج کی حمایت، لیکن پارٹی قیادت سے وضاحت طلب
فارورڈ بلاک کے اجلاس میں 4 اکتوبر کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کی بھی حمایت کی گئی، تاہم اراکین نے پارٹی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے واضح لائحۂ عمل سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حمایت میں مسلسل بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی نااہلی کی صورت میں تمام ارکان سڑکوں پر ہوں گے۔
’کوئی بھی نیا وزیراعلیٰ نہیں بنے گا۔ جو بھی نااہل ہوگا، ہم میں سے کوئی بھی اسمبلی میں نہیں رہے گا، ہم سب عوام کے درمیان سڑکوں پر ہوں گے۔‘
تاہم، جب یہ مؤقف فارورڈ بلاک کے 3 اراکین کے سامنے رکھا گیا تو ان میں سے 2 ارکان نے اس سے اتفاق نہیں کیا، ان کا موقف تھا کہ جنید اکبر کی سنتا کون ہے۔













جمعرات 1 اکتوبر 2026 

